حیدر آباد : سندھ ہائی کورٹ سرکٹ کورٹ حیدرآباد نے لیاقت یونیورسٹی اسپتال حیدرآباد کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سید ارشاد حسین کاظمی کی تقرری سے متعلق آئینی درخواست میں تمام متعلقہ فریقین کو 03 فروری 2026ء صبح 8:30 بجے...
میڈیکل کے شعبے میں جدت اور روز افزوں ہونے والی ترقی کے ثمرات پاکستان میں بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور اس سلسلےمیں اہم پیش رفت کے مطابق جسمانی دردوں میں مبتلا مریضوں کے لئے بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔
ایسے مریض آپریشن کی تکلیف سے بچ جائیں گے اور انہیں ایشیاء کی سب سے بڑی علاج گاہ میو ہسپتال سرجیکل ٹاور میںریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے تحت قائم کردہ پین کلینک سے خاطر خواہ ریلیف ملے گا۔
اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ ریڈیالوجی ڈاکٹر شہزاد کریم بھٹی کی سربراہی میں کام کرنے والے اس پین کلینک میں جوڑوں،پٹھوں، کمراور سلپ ڈسک کے درد میں مبتلا افراد کا جدید طریقوں سے علاج عمل میں لایا جائے گا جس سے مریض کو فوری طور پر دردوں سےنجات ملے گی جبکہ نادار اور مستحق مریضوں کو مفت طبی سہولیات میسر ہوں گی۔
بیرون ملک سے تربیت یافتہ اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شہزاد کریم بھٹی کا کہنا تھا کہ اس پین کلینک کا اجراء اپنی نوعیت آپ ہے جہاںدیگر بیماریوں کے ساتھ ساتھ کینسر کا علاج بھی شروع کر دیا گیا ہے کیونکہ کینسر کے مریض اکثر شدید درد میں مبتلا ہوتے ہیں اورجن کے علاج کے لئے عام طور پر کوئی دوائی اثر نہیں کرتی،ایسے مریض غنودگی میں چلے جاتے ہیں اور انہیں درد محسوس نہیں ہوتی۔
ڈاکٹر شہزاد کریم بھٹی نے بتایا کہ سرجیکل ٹاور میو ہسپتال کے پین کلینک میں انسانی جسم میں درد پیدا کرنے والی نسوں کو سنکر دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے مریضو ں کو فوری طور پر سکون ملتا ہے۔
انہوں نے میو ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر ثاقب سعید،وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالجپروفیسر خالد مسعود گوندل اور میو ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر افتخار کی خصوصی رہنما و تعاون کو سراہا۔
انہوں نے بتایا کہ سرجیکل ٹاور میو ہسپتال میں جو مشینری نصب کی گئی ہے وہ صوبے بھر کے کسی اور ہسپتال میں دستیاب نہیں۔
ڈاکٹر شہزاد کریم بھٹی کا مذید کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی ہدایات کے مطابق ضرورت منداور نادار مریضوں کو جدید طبی سہولیات بہم پہنچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور بالخصوص جسمانی دردوں کے جدیدطریقہ علاج کے حوالے سے میو ہسپتال میں ہونے والی یہ اہم پیش رفت قابل ستائش ہے جس کا بلا واسطہ فائدہ عام آدمی کو پہنچےگا۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن پنجاب کی صوبائی مجلس عاملہ کا اجلاس پی ایم اے ہاوس لاہور میں منعقد ہوا ۔ جس کی صدارتپروفیسر ڈاکٹر محمد تنویر انور نے کی۔ اجلاس میں صوبہ بھر سے کثیر تعداد ڈاکٹرز نے شرکت کی۔
اجلاس میں متفقہ قرارداد کے ذریعے پاکستان میڈیکل کمیشن کو یکسر مسترد کر دیا گیا۔ پی ایم سی نے این ایل ای کے حوالے سےامتحانات کا اعلان کر کے ڈاکٹروں کے مستقبل کو تاریک کر دیا ہے۔ پی ایم اے پنجاب نے این ایل ای جسے کالا قانون کا بائیکاٹ کر دیاہے۔
اس حوالے سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ 16 جون بروز بدھ تمام تنظیمیں پریس کلب کے سامنے احتجاج کریں گی اور بعد از احتجاج پریسکانفرنس کے ذریعے اس کالے قانون کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا کہ اس قانون کو موجودہ طالب علموں پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔
ہیلتھ کیر کمشن کے معاملات جب تک پی ایم اے پنجاب سے طے نہیں ہو جاتے اس وقت تک پی ایم اے پنجاب ہیلتھ کیر کمیشن سےکسی قسم کا کوئی تعاون نہیں کریں گی۔
ڈی سی او شیخوپورہ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے سی ای او شیخوپورہ کو ہیلتھ ڈپارٹمنٹ بھیج دیا جو کہ سراسر زیادتیہے اس واقعہ کی پی ایم اے پنجاب بھرپور مذمت کرتی ہیں اور پی ایم اے پنجاب صوبائی وزیر صحت اور چیف سیکریٹری پنجاب سےمطالبہ کرتی ہے کہ ڈی سی اور کو فی الفور معطل کیا جائے اور معطل سی ای او کو دربار شیخوپورہ تعینات کیا جائے ۔
محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کی جانب سے ڈینگی ہاٹ سپاٹس والے علاقوں میں خصوصی سرویلنس مہم جاری ہے ۔پنجاب میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ڈینگی کا کوئی کنفرم کیس سامنے نہیں آیا۔
سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر سارہ اسلم کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبہ بھر میں29138 مقامات پرسرویلینس کی کاروائیاں کی گئیں اور دس مقامات سے ڈینگی لاروا کی موجودگی کنفرم ہوئی۔ ڈینگی لاورا والے مقامات پر لاروا ختمکرنے کے لئے سپرے سمیت ہر طرح کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ڈیش بورڈ کے اعدادوشمار کو لمحہ بہ لمحہ مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ ہاٹ سپاٹس کی نشاندہی کرکے ڈینگی لاروا کو تلفکیاجا رہا ہے۔ پچھلے چوبیس گھنٹے میں صوبہ بھر میں ڈینگی کا کوئی مریض ہسپتال میں داخل نہیں ہوا۔
سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق جنوری 2021سے اب تک صوبہ بھر سے45 کنفرم مریض رپورٹ ہو چکے ہیںڈینگی سرویلینس میں مزید بہتری لا رہے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں مانیٹرنگ بڑھا ئی جا رہی ہے ۔ ڈینگی کے مشتبہ مریضوں کےسرویلنس ٹیسٹنگ بڑھا دی گئی ہے ۔ مون سون سے پہلے تمام مقامات سے لاروا کی تلفی نہایت اہم ہے ۔
سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر کے مطابق عوام سے گزارش ہے کہ اردگرد کے ماحول کو خشک اور صاف رکھ کر ڈینگیوائرس سے حفاظت یقینی بنائیں اپنے گھروں میں ائیر کولرز، واٹر ٹینک، ٹائرز اور دیگر جگہوں پر پانی زیادہ دیر کھڑا نہ ہونے دیں-
انہوں نے کہا کہ ڈینگی کے تدارک والی ٹیمیں اپنے اپنے فرائض بخوبی نبھائیں۔ ڈینگی کی علامات ظاہر ہونے پر رہنمائی کے لئے 1033پر رابطہ کریں۔
لاہور سمیت پنجاب میں کورونا وائرس کے 223 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد مجموعی تعداد 343,926 ہو گئی۔
ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق لاہورمیں 75،ننکانہ 2، چکوال 2، جہلم 1، راولپنڈی 21، اور گوجرانوالہ میں 5 کیسزرپورٹ ہوئے سیالکوٹ 1، گجرات 1، ملتان 15، خانیوال 1، ڈیرہ غازیخان 1 اور وہاڑی میں 7 کیس سامنے آئے ۔
فیصل آباد 22، جھنگ 7 اور رحیم یار خان میں 8 کیسز رپورٹ ہوئےجبکہ سرگودھا 8، میانوالی 10، خوشاب 17، بہاولپور 15اور بھکر میں4 کیس سامنے آئے۔
ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق لاہور میں گزشتہ24گھنٹوں کے دوران مزید 09 مریض جاں بحق ہو گئے ہیں جس کےبعدلاہور میں مرنے والوں کی کل تعداد 4,232 ہو چکی ہے۔ صوبہ بھرمیں کورونا وائرس سے مزید 22 اموات، صوبے میں مرنے والوں کی کلتعداد 10,501 ہوچکی ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 9,246 ٹیسٹ کئے گئے، اب تک کل 5,376,863 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ کورونا سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد321,879 ہو چکی ہے۔
محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر نے گذشتہ24گھنٹوں کےدوران پنجاب میں 2,20,980 افراد کوویکسین لگادی۔
ترجمان محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر کے مطابق صوبہبھرمیں ابھی تک 4,77,630 ہیلتھ کئیرورکرز کو ویکسین کی پہلی ڈوزلگائی جاچکی ہے۔
پنجاب میں ابھی تک 2,66,580 ہیلتھ کئیر ورکرزکو کوروناویکسین کیدوسری ڈوزلگائی جاچکی ہے۔صوبہ بھرمیں ابھی تک 4,092,813 کوکوروناکی پہلی اور963,153 افرادکو دوسری ڈوزلگائی جاچکی ہے۔
صوبہ بھرمیں مجموعی طورپرابھی تک58لاکھ سے زائد افرادکوکوروناویکسین لگائی جاچکی ہے۔
ترجمان کے مطابق پنجاب میں ویکسینیشن کے ہدف کو کامیابی سےحاصل کیاجارہاہے۔ صوبہ بھرمیں ڈرائیوتھروویکسین کو کامیاببنانے کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ اضلاع میں ٹاسک فورسزکےذریعے ویکسینیشن کے عمل کوتیزکیاجارہاہے۔ تمام اضلاع کوویکسینشین کا ہدف پوراکرنے کیلئے ڈیڈلائن دی گئی ہے۔
ترجمان کے مطابق سیکرٹری محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھکئیرسارہ اسلم نے صوبہ بھرمیں ویکسینیشن کے عمل کی خودنگرانیکررہی ہیں۔
پنجاب کی عوام سے کوروناویکسین لگواکراپنے آپ کو کوروناسےمحفوظ بنانے کی اپیل کرتے ہیں۔ کوروناجیسی خطرناک اور جانلیواء وباء سے چھٹکارہ حاصل کرنے کیلئے ویکسین اور احتیاطواحدحل ہیں۔