جمعرات, فروری 5, 2026

متعلقہ خبریں

یہ بھی دیکھیں

جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی میں عدالتی حکم کی کھلی خلاف ورزی، فیکلٹی ارکان غیرقانونی طور پر انتظامی عہدوں پر تعینات

کراچی : جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی میں سپریم کورٹ آف پاکستان اور سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے واضح احکامات کے باوجود اساتذہ کا غیرقانونی طور پر انتظامی عہدوں پر فائز رہنا ایک سنگین ادارہ جاتی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے جہاں قوانین، عدالتی فیصلوں اور ریگولیٹری ہدایات کو کھلے عام نظر انداز کیا جا رہا ہے اور اس کا براہِ راست خمیازہ طلبہ، تعلیمی معیار اور میرٹ سسٹم کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

دستاویزات کے مطابق سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے 19 دسمبر 2025ء کو سندھ بھر کی جامعات کے وائس چانسلرز کو تحریری ہدایات جاری کی تھیں، جن میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے سی پی نمبر 7 آف 2024 کے فیصلے (مورخہ 24 اکتوبر 2024ء) کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا گیا تھا کہ تمام خالی انتظامی اسامیاں قانون کے مطابق باقاعدہ طریقہ کار سے پُر کی جائیں اور ایڈیشنل چارج، لک آفٹر، او پی ایس یا کسی بھی عبوری انتظام کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ کمیشن کی جانب سے اس حکم پر عمل درآمد کے لیے صرف آٹھ دن کی مہلت دی گئی تھی، تاہم جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی میں یہ احکامات تاحال نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔

ہیلتھ ٹائمز کو موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی میں اس وقت متعدد اساتذہ بیک وقت تدریسی اور انتظامی عہدوں پر فائز ہیں، جو عدالتی فیصلے اور ہائر ایجوکیشن قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ان میں فزیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر فاطمہ عابد سرفہرست ہیں جو ڈائریکٹر ایڈمیشن کے حساس انتظامی عہدے پر تعینات ہیں جہاں داخلوں سے متعلق فیصلے کیے جا رہے ہیں۔

اسی طرحانسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ٹیکنالوجی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر عائشہ اقبال بطور ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ٹیکنالوجی فرائض انجام دے رہی ہیں، جبکہ اسی ادارے میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد وقاص بھی تدریسی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ انتظامی امور میں براہِ راست شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایک ہی فرد کا بیک وقت فیکلٹی اور انتظامی فیصلوں میں کردار ادا کرنا ادارہ جاتی مفادات کے ٹکراؤ کی واضح مثال ہے۔

پبلک ہیلتھ کے شعبے میں صورتحال مزید تشویشناک دکھائی دیتی ہے، جہاں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر شیراز شیخ APPNA اپنا انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ میں انچارج ایڈمنسٹریشن کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اسی ادارے میں فیکلٹی ممبر مس نورین زہرہ بطور ڈائریکٹر مختلف ڈگری پروگرامز کی سربراہی کر رہی ہیں، جبکہ ڈاکٹر زعیمہ احمر ایم ایس پی ایچ پروگرام کی ڈائریکٹر ہونے کے ساتھ اسسٹنٹ پروفیسر بھی ہیں۔ مزید برآں ڈاکٹر گریش مہیشوری بطور اسسٹنٹ پروفیسر اپنا انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ میں بی ایس پی ایچ پروگرام کے ڈائریکٹر کے عہدے پر بھی فائز ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایجوکیشن میں بھی یہی صورتحال سامنے آئی ہے، جہاں فیکلٹی ممبر ڈاکٹر تزین شاہ بطور ڈائریکٹر فرائض انجام دے رہی ہیں، حالانکہ یہ انتظامی عہدہ بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت باقاعدہ تقرری کا متقاضی ہے۔ اسی طرح انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اینڈ بزنس مینجمنٹ میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر کلپنا کماری بیک وقت تدریسی فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ پورے انسٹی ٹیوٹ کی انچارج کے طور پر انتظامی اختیارات استعمال کر رہی ہیں، اس کے علاوہ انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اینڈ بزنس مینجمنٹ  میں ہی فل ٹائم بی پی ایس فیکلٹی ممبر ڈاکٹر آصف الدین بیک وقت چیئرمین اسٹورز کے اضافی چارج پر فائز ہیں، جبکہ اس سے قبل وہ چیئرمین پروکیورمنٹ کا اضافی چارج بھی سنبھال چکے ہیں۔

تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس غیرقانونی بندوبست کے نتیجے میں نہ صرف وہ افسران متاثر ہو رہے ہیں جو میرٹ اور قانون کے مطابق ان عہدوں پر تعیناتی کے منتظر ہیں بلکہ سب سے بڑا نقصان طلبہ کو ہو رہا ہے، جو بھاری فیسیں ادا کرنے کے باوجود اپنے اساتذہ کو کلاس رومز میں دستیاب نہیں پاتے۔ داخلوں، ریسرچ، اکیڈمک پلاننگ اور امتحانی نظام پر بھی اس صورتحال کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق یہ تمام تقرریاں سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے احکامات اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی کھلی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں، جس پر اب تک نہ تو یونیورسٹی انتظامیہ نے کوئی مؤثر قدم اٹھایا ہے اور نہ ہی متعلقہ حکام کی جانب سے عملی کارروائی سامنے آ سکی ہے۔ اس صورتحال نے یہ سنگین سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی میں قانون، عدالتی فیصلے اور ریگولیٹری اداروں کی کوئی حیثیت باقی رہ گئی ہے یا نہیں۔

تعلیمی حلقوں اور سول سوسائٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ حکومت، سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور دیگر متعلقہ ادارے فوری طور پر مداخلت کریں، غیرقانونی طور پر فائز اساتذہ کو انتظامی عہدوں سے ہٹایا جائے اور قانون کے مطابق شفاف تقرریاں عمل میں لائی جائیں، بصورت دیگر یہ بحران جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے تعلیمی مستقبل کے لیے ایک ہولناک مثال بن سکتا ہے۔

یونیورسٹی کی ترجمان آصفیہ عزیز سے جب اس حوالے سے موقف لیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ہدایات کی روشنی میں ضروری اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ ترجمان کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ اس معاملے پر سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔