جمعرات, فروری 5, 2026

متعلقہ خبریں

یہ بھی دیکھیں

غلط لیبارٹری رپورٹس، آغا خان اسپتال طبی غفلت کا مرتکب قرار، کنزیومر پروٹیکشن کورٹ کا 16 لاکھ ہرجانہ ادا کرنے کا حکم

کراچی : کنزیومر پروٹیکشن کورٹ کراچی (ساؤتھ) نے یکم جنوری 2026ء کو کیس نمبر 25/2021 میں ایک اہم اور نظیر بننے والا فیصلہ سناتے ہوئے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (کلفٹن میڈیکل سروسز) کو غلط لیبارٹری رپورٹ، طبی غفلت اور ناقص سروس کا مرتکب قرار دے دیا۔ عدالت نے متاثرہ صارف سیف الرحمٰن کو 16 لاکھ 80 ہزار روپے (Rs. 1,680,000) بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ یہ فیصلہ 23 دسمبر 2025ء کو محفوظ کیا گیا تھا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ارسلان راجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ مارچ 2021ء میں ان کے موکل نے مکمل فیس ادا کرکے آغا خان ہسپتال سے لیبارٹری تشخیصی سہولیات حاصل کیں، تاہم 25 مارچ 2021ء کو جاری کی گئی رپورٹ میں خون کے مختلف ٹیسٹس میں سنگین بے قاعدگیاں ظاہر کی گئیں اور ہیپاٹائٹس سی (HCV) کو ری ایکٹو قرار دیا گیا، جس کے نتیجے میں درخواست گزار شدید ذہنی دباؤ، خوف، اضطراب اور سماجی بدنامی کا شکار ہوا۔

وکیل کے مطابق طبی ماہرین کے مشورے پر درخواست گزار نے 29 مارچ 2021ء کو دوبارہ آغا خان ہسپتال جبکہ 30 مارچ 2021ء کو ڈاؤ ڈائیگناسٹک لیبارٹری سے وہی ٹیسٹس کروائے، جن کی رپورٹس مکمل طور پر نارمل آئیں اور ہیپاٹائٹس سی نان ری ایکٹو ظاہر ہوا، جو پہلی رپورٹ سے بالکل متضاد تھا۔

سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ طبی سائنس کے اصولوں کے مطابق چار سے پانچ دن کے اندر ہیموگلوبن کی مقدار 10.9 g/dl سے بڑھ کر 15 g/dl سے زائد ہونا ناممکن ہے، اسی طرح بغیر کسی علاج کے ہیپاٹائٹس سی کا نتیجہ ری ایکٹو سے نارمل ہونا ممکن نہیں، جو لیبارٹری کی سنگین غلطی کا واضح ثبوت ہے۔

عدالت نے آغا خان ہسپتال سے وابستہ کنسلٹنٹ ڈاکٹر یوسف کمال مرزا کی اندرونی خط و کتابت کا بھی نوٹس لیا، جس میں نمونوں کے تبادلے (Sample Mix-up) کا اعتراف کیا گیا اور اس امکان کا اظہار کیا گیا کہ درخواست گزار کو کسی دوسرے مریض کی رپورٹ جاری کر دی گئی۔

عدالت کی ہدایت پر معاملہ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن (SHCC) کو بھیجا گیا، جہاں چھ رکنی ماہر کمیٹی نے تحقیقات کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ہسپتال نے لیبارٹری کے معیاری ضوابط کی خلاف ورزی کی اور یہ غلطی نمونوں کی شناخت اور تصدیق کے ناقص نظام کے باعث پیش آئی۔ کمیشن نے آغا خان ہسپتال پر جرمانہ بھی عائد کیا، جسے ہسپتال نے چیلنج نہیں کیا۔

عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ ہسپتال کسی مستند لیبارٹری ٹیکنالوجسٹ، پیتھالوجسٹ یا کوالٹی کنٹرول افسر کو بطور گواہ پیش کرنے میں ناکام رہا اور صرف ایک انتظامی نمائندہ پیش کیا گیا، جس نے متعدد تکنیکی سوالات کے جواب میں لاعلمی کا اظہار کیا۔

فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ خوفناک اور غلط طبی رپورٹ کا اجرا سنگین طبی غفلت کے زمرے میں آتا ہے، جس سے درخواست گزار کی ذہنی صحت، سماجی وقار اور پیشہ ورانہ زندگی بری طرح متاثر ہوئی۔ عدالت کے مطابق آغا خان ہسپتال سندھ کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ 2014ء کے تحت مطلوبہ پیشہ ورانہ احتیاط، مہارت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہا۔ ان حقائق کی بنیاد پر عدالت نے آغا خان ہسپتال کو حکم دیا کہ وہ متاثرہ صارف کو 16 لاکھ 80 ہزار روپے بطور ہرجانہ ادا کرے۔

بیرسٹر ارسلان راجہ نے دلائل میں مؤقف اختیار کیا کہ تسلیم شدہ طریقہ کار کی خلاف ورزی اور نمونوں کے تبادلے کا اعتراف اس امر کا ثبوت ہے کہ بڑے طبی تشخیصی اداروں کو بھی قانون کے تحت جوابدہ بنایا جانا چاہیے۔ یہ فیصلہ صحت کے شعبے میں صارفین کے حقوق کے تحفظ، طبی اداروں کی جوابدہی اور لیبارٹری تشخیصی نظام میں معیار اور احتیاط کو یقینی بنانے کے حوالے سے ایک اہم نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔