جمعرات, فروری 5, 2026

متعلقہ خبریں

یہ بھی دیکھیں

دیہی سندھ میں خاندانی منصوبہ بندی پروگرام کی توسیع، نجی شعبے کا انقلابی اقدام، خواتین و خاندانوں کو بااختیار بنانے کی کوشش

کراچی : دیہی سندھ کے پسماندہ علاقوں میں تولیدی صحت کی سہولیات تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے نجی شعبے نے خاندانی منصوبہ بندی پروگرام کو وسعت دینے اور مزید مؤثر بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف شراکت دار اداروں کے ساتھ اسٹریٹجک معاہدے کیے گئے ہیں تاکہ دور دراز علاقوں میں صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔

شائن ہیومینٹی کا خاندانی منصوبہ بندی پروگرام اس وقت گھارو، کوہی گوٹھ، سجاول، چلیا، نیو جاتوی، ڈِپلو اور نگرپارکر میں قائم سات کلینکس کے ذریعے خدمات انجام دے رہا ہے۔ ان کلینکس کے ساتھ ساتھ کمیونٹی سطح پر وسیع آؤٹ ریچ سرگرمیاں بھی جاری ہیں، جن کی قیادت تربیت یافتہ کمیونٹی ہیلتھ ورکرز (CHWs) کر رہے ہیں۔

کمیونٹی ہیلتھ ورکرز گھر گھر جا کر خواتین اور خاندانوں کو خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق آگاہی، مشاورت اور خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ ان سرگرمیوں میں کنڈومز اور ادویات کی فراہمی بھی شامل ہے، جس سے صحت کی سہولیات صرف کلینکس تک محدود نہیں رہیں بلکہ گھروں کی دہلیز تک پہنچ رہی ہیں۔

فرنٹ لائن سروس ڈیلیوری کو مضبوط بنانے اور معیاری طبی سہولیات کو یقینی بنانے کے لیے شائن ہیومینٹی نے وائٹل پاکستان ٹرسٹ کے اشتراک سے کراچی میں کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کی مشترکہ تربیت کا اہتمام کیا۔ اس تربیت کا مقصد کمیونٹی سطح پر خدمات کے معیار کو بہتر بنانا اور خواتین کی صحت سے متعلق آگاہی میں اضافہ کرنا ہے۔

اس موقع پر شائن ہیومینٹی پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فہیم خان نے کہا کہ آبادی بہبود کے محکمے اور وائٹل پاکستان ٹرسٹ کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے کمیونٹی بیسڈ ہیلتھ ماڈلز کو فروغ دیا جا رہا ہے جو خواتین اور خاندانوں کو بااختیار بناتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام نہ صرف خاندانی منصوبہ بندی سے جڑی سماجی غلط فہمیوں کے خاتمے میں مدد دے گا بلکہ ان طبقات تک تولیدی صحت کی خدمات پہنچانے میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا جو برسوں سے نظرانداز ہوتے رہے ہیں۔