کراچی: انسانیت، ایثار اور بے لوث قربانی کی ایک ایسی دل کو چھو لینے والی مثال کراچی میں سامنے آئی ہے جس نے نہ صرف طبّی دنیا بلکہ پورے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (SIUT) میں 17 سالہ طالب علم شیر علی تہیم نے وفات کے بعد اپنی آنکھوں کے قرنیے عطیہ کر کے دو نابینا افراد کو نئی بینائی اور زندگی کو نئی امید عطا کر دی۔
تفصیلات کے مطابق، شیر علی کو دماغ کی شریان پھٹنے کے باعث تشویشناک حالت میں ایس آئی یو ٹی منتقل کیا گیا تھا۔ دو دن تک زندگی اور موت کی کشمکش کے بعد ڈاکٹروں نے اسے برین ڈیڈ قرار دے دیا۔ یہ لمحہ اس کے والدین کے لیے قیامت سے کم نہ تھا، مگر اسی گہرے دکھ کے عالم میں اس خاندان نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے اندھیروں میں ڈوبی دو زندگیاں روشن کر دیں۔
شیر علی کا ایس آئی یو ٹی سے تعلق محض ایک مریض کا نہیں بلکہ ایک پوری داستانِ حیات پر محیط تھا۔ محض آٹھ برس کی عمر میں اس کی والدہ نے اپنا گردہ عطیہ کر کے اسے نئی زندگی دی تھی، جبکہ اس کے والد پہلے ہی اپنے بھتیجے کو گردہ عطیہ کر کے ایثار کی اعلیٰ مثال قائم کر چکے تھے۔ عطیہ کیا گیا گردہ تقریباً دس برس تک بخوبی کام کرتا رہا، تاہم حالیہ عرصے میں شیر علی دوبارہ گردے کے عارضے میں مبتلا ہو گیا تھا اور ڈائلیسس پر تھا، جبکہ دوسرے ٹرانسپلانٹ کا منتظر تھا۔
لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اس المناک سانحے کے باوجود، خاندان نے اس روایتِ ایثار کو زندہ رکھا جو برسوں سے ان کے گھر کی پہچان تھی۔ ورثا کی رضامندی کے بعد، ایس آئی یو ٹی کے ماہرین نے 7 جنوری کو شیر علی کے قرنیے کامیابی سے نکال کر ایک 45 سالہ مرد اور 21 سالہ طالب علم میں پیوند کاری کی، جس کے نتیجے میں دونوں افراد کی بینائی بحال ہو گئی۔
ایس آئی یو ٹی کے سربراہ اور عالمی شہرت یافتہ معالج پروفیسر ادیب رضوی نے اس موقع پر سوگوار خاندان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شدید غم کے لمحات میں دوسروں کی زندگیوں کے بارے میں سوچنا انسانیت کے اعلیٰ ترین درجے کی علامت ہے۔ انہوں نے معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کی کہ وہ وفات کے بعد اعضا کے عطیے کی اس عظیم انسانی تحریک کا حصہ بنیں، تاکہ لاعلاج اور معذور مریضوں کو نئی زندگی اور امید دی جا سکے۔


