جمعرات, فروری 5, 2026

متعلقہ خبریں

یہ بھی دیکھیں

کوئٹہ میں گیسٹرو انسٹی ٹیوٹ کو ٹراما سینٹر بنانے کا فیصلہ: پی ایم اے کوئٹہ کے شدید تحفظات، محکمہ صحت کی پالیسی پر سوالات

کوئٹہ : پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کوئٹہ نے محکمہ صحت بلوچستان کے اس فیصلے پر شدید تحفظات اور گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جس کے تحت کوئٹہ میں ادارہ امراضِ معدہ، جگر و آنت (گیسٹروانٹرولوجی انسٹی ٹیوٹ) کی نئی تعمیر شدہ عمارت کو توڑ پھوڑ کے بعد، بغیر کسی جامع پالیسی، باقاعدہ سروس اسٹرکچر، واضح طریقۂ کار، تربیت یافتہ عملے اور بنیادی سہولیات کے، ٹراما سینٹر کے طور پر افتتاح کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پی ایم اے کوئٹہ کے ترجمان کے مطابق مذکورہ عمارت گیسٹرو انٹرولوجی کے لیے باقاعدہ طور پر منظور شدہ، منصوبہ بند اور تعمیر شدہ تھی، جسے کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرنا ادارہ جاتی منصوبہ بندی، طویل المدتی وژن اور صوبے کے صحت کے نظام کی بنیادی حکمتِ عملی کو شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ بین الاقوامی معیار اور عالمی ادارہ صحت (WHO) کے رہنما اصولوں کے مطابق مؤثر ٹراما اور ایمرجنسی سروسز کا قیام صرف ٹرشری کیئر ہسپتالوں جیسے بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال (BMCH) یا سول ہسپتال کوئٹہ (SPH) کے اندر یا ان کے توسیعی نظام کے طور پر ہی قابلِ عمل اور محفوظ ہوتا ہے۔ ہسپتالوں سے دور، بغیر انفراسٹرکچر، انسانی وسائل اور سروس اسٹرکچر کے قائم کیے گئے ٹراما سینٹر نہ صرف غیر مؤثر بلکہ مریضوں کی جان کے لیے سنگین خطرہ بھی بن سکتے ہیں۔

پی ایم اے کوئٹہ نے نشاندہی کی کہ کوئٹہ میں ایک مزید ٹراما و ایمرجنسی سینٹر کے قیام کی باقاعدہ منظوری پہلے ہی شیخ خلیفہ بن زاید النہیان ہسپتال میں دی جا چکی ہے، تاہم محکمہ صحت کی عدم دلچسپی، ناقص ترجیحات اور سنجیدگی کے فقدان کے باعث اس منصوبے پر تاحال عملی پیش رفت صفر ہے۔ ترجمان کے مطابق کوئٹہ جیسے بڑے اور حساس شہر میں کم از کم دو مکمل فعال ٹراما و ایمرجنسی سینٹرز کی اشد ضرورت ہے، تاہم ان مراکز کا قیام واضح معیار (Criteria)، معیاری SOPs، باقاعدہ سروس اسٹرکچر اور تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے ساتھ عمل میں آنا چاہیے، نہ کہ عجلت، بدنظمی اور نمائشی اقدامات کے تحت۔

پی ایم اے کوئٹہ نے اس امر پر بھی شدید افسوس کا اظہار کیا کہ محکمہ صحت میں پالیسی سازی کے عمل کے دوران تکنیکی اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز بشمول پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (YDA) بلوچستان کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں صوبے کے عوام معیاری صحت سہولیات سے محروم ہیں۔ رجمان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے صحت کے اشاریے پہلے ہی پاکستان کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں نہایت تشویشناک اور بعض حوالوں سے عالمی معیار سے بھی کم ہیں، مگر اس کے باوجود موجودہ حکام کی توجہ بنیادی صحت سہولیات، ادویات، آلات، تربیت یافتہ عملے اور مؤثر انتظامی نظام کے قیام کے بجائے صرف غیر ضروری تعمیرات، مرمت اور تزئین و آرائش تک محدود ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ “عمارتیں نہیں، بلکہ مضبوط نظامِ صحت قوموں کو آگے بڑھاتا ہے۔” پی ایم اے کوئٹہ کے مطابق صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو سرنج، کینولا اور ایمرجنسی ادویات جیسی بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہیں، جبکہ دوسری جانب تعمیراتی منصوبوں کو ذاتی مفادات اور کاروباری فوائد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جو ایک ناکام، غیر شفاف اور کرپٹ نظامِ صحت کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ تنظیم نے مزید تشویش کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں 80 فیصد سے زائد انتظامی اور مینیجریل عہدے اضافی یا قائم مقام (Acting / Additional Charge) بنیادوں پر چلائے جا رہے ہیں، جو ادارہ جاتی کمزوری، ناقص گورننس اور غیر سنجیدہ طرزِ حکمرانی کا ثبوت ہیں، اور یہ صورتحال وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور موجودہ حکومت کے دعوؤں کے صریحاً منافی ہے۔

پی ایم اے کوئٹہ نے واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کیا کہ صحت کے شعبے سے متعلق کوئی بھی پالیسی، منصوبہ یا انتظامی فیصلہ اس وقت تک قابلِ قبول نہیں ہوگا جب تک پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ اور YDA بلوچستان کو بامعنی، مؤثر اور باقاعدہ مشاورت کے عمل میں شامل نہیں کیا جاتا۔

آخر میں پی ایم اے کوئٹہ نے وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ، چیف سیکریٹری بلوچستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے پُرزور مطالبہ کیا کہ محکمہ صحت میں ہر سطح پر میرٹ کے قتل کا سنجیدہ نوٹس لیا جائے، غیر ضروری، غیر سائنسی اور غیر مؤثر فیصلوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، اور ٹراما و ایمرجنسی سروسز سمیت تمام اہم منصوبے مشاورت، معیار اور اتفاقِ رائے سے مکمل کیے جائیں تاکہ عوام کو حقیقی معنوں میں معیاری صحت سہولیات میسر آ سکیں۔ بصورتِ دیگر، پی ایم اے کوئٹہ نے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے صوبے بھر میں مؤثر اور سخت احتجاجی لائحہ عمل اختیار کرنے کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان کیا ہے۔