کراچی : پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) نے کراچی میں ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل اسٹاف اور نجی ہسپتالوں کے خلاف بڑھتے ہوئے ہراسانی، غیر قانونی اقدامات اور دباؤ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پیما کراچی کے صدر ڈاکٹر سید احمر حامد نے پیما ہاؤس سے جاری کردہ ایک اہم بیان میں واضح کیا ہے کہ کسی بھی پولیس افسر کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ پیشہ ورانہ طبی معاملات میں کسی ڈاکٹر یا طبی عملے کو براہِ راست گرفتار کرے، بلکہ اس کے لیے قانون کے مطابق مکمل طریقۂ کار اختیار کرنا لازمی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ڈاکٹروں یا اسپتالوں کے خلاف کسی بھی قسم کے الزام یا شکایت کو نمٹانے کے لیے سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن قائم ہے، جو کہ اس مقصد کے لیے واحد قانونی اور بااختیار ادارہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے پاس جہاں مریضوں کے حقوق کا تحفظ اور شفاف تحقیقات کا نظام موجود ہے، وہیں یہ ادارہ ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو بھی غیر ضروری دباؤ اور ہراسانی سے بچانے کے لیے مناسب قانونی نظام رکھتا ہے، اور ماضی میں بھی متعدد مواقع پر کمیشن نے طبی عملے کے خلاف نامناسب پولیس کارروائیوں کا سخت نوٹس لیا ہے۔ ڈاکٹر احمر حامد نے مزید کہا کہ اگر کسی بھی فرد یا گروہ کی جانب سے کسی ڈاکٹر یا طبی عملے کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج کروائی جائے یا قانون سے ہٹ کر کارروائی کی جائے، تو اس کی شکایت بھی فوری طور پر کمیشن میں درج کی جانی چاہیے تاکہ ضابطے کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
پیما کراچی نے اپنے بیان میں اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ شہر میں بعض منظم گروہ سرگرم ہیں جو ڈاکٹروں، اسپتالوں اور دیگر متعلقہ فریقین کو بلیک میلنگ اور بھتہ خوری جیسی مجرمانہ سرگرمیوں کے ذریعے نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس قسم کی کارروائیاں نہ صرف طبی عملے میں شدید خوف و ہراس پیدا کر رہی ہیں بلکہ عوام کو فراہم کی جانے والی طبی خدمات کو بھی بری طرح متاثر کر رہی ہیں۔ اس حوالے سے بیان میں گزشتہ دنوں گلشن اقبال میں واقع ایک نجی نفسیاتی ہسپتال میں پیش آنے والے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ایک منظم گروہ نے ہسپتال کے ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل اسٹاف اور انتظامی عملے کو شدید ہراساں کیا اور اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کروا کے انہیں گرفتار کروایا، جس کے بعد اب ہسپتال کے مالکان کو بلیک میل کر کے بھاری رقم کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر احمر حامد نے اس بات پر سخت زور دیا کہ ہر معاملے کا فیصلہ صرف اور صرف مکمل شواہد، میڈیکل ریکارڈ اور قانونی دستاویزات کی بنیاد پر ہونا چاہیے، اور اگر کسی کیس میں تشدد یا جسمانی چوٹ کے شواہد پیش کیے جائیں تو اس کے تمام پہلوؤں، بشمول گرنے یا کسی حادثے کے امکان اور دستیاب میڈیکل ہسٹری کا گہرائی سے جائزہ لیا جانا ضروری ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔ پیما نے متاثرہ ڈاکٹروں اور تمام طبی عملے کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اخلاقی، پیشہ ورانہ اور قانونی معاونت کی یقین دہانی کرائی ہے اور اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کے مستقل حل کے لیے سول سوسائٹی اور دیگر ذمہ داران کے ساتھ مل کر مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ آخر میں پیما کراچی نے حکومتِ سندھ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے پرزور مطالبہ کیا کہ ڈاکٹروں اور طبی اداروں کو غیر قانونی ہراسانی سے تحفظ فراہم کیا جائے، جبکہ طبی غفلت کے معاملات میں شفافیت اور انصاف کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ یہ بیان پیما کراچی کے شعبہ نشرواشاعت کے انچارج ڈاکٹر شعیب اکرم کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔

