حیدر آباد : سندھ ہائی کورٹ سرکٹ کورٹ حیدرآباد نے لیاقت یونیورسٹی اسپتال حیدرآباد کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سید ارشاد حسین کاظمی کی تقرری سے متعلق آئینی درخواست میں تمام متعلقہ فریقین کو 03 فروری 2026ء صبح 8:30 بجے عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کر دی ہے۔
عدالت کی جانب سے جاری ہونے والے تحریری نوٹس کے مطابق، آئینی درخواست سی پی نمبر 2133/2025 شہری شہزائب سہیل کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں صوبہ سندھ، چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری صحت، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز سندھ، ڈاکٹر سید ارشاد حسین کاظمی اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو فریق بنایا گیا ہے۔
نوٹس میں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صوبائی حکومت کی جانب سے عدالت میں پیش ہو کر جواب جمع کرائیں۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ مقررہ تاریخ پر عدم حاضری کی صورت میں درخواست یکطرفہ طور پر بھی سنی جا سکتی ہے۔
عدالتی دستاویز کے مطابق یہ آئینی درخواست آرٹیکل 199 کے تحت دائر کی گئی ہے، جس کے ساتھ عبوری درخواست بھی شامل ہے۔ عدالت نے فریقین سے کہا ہے کہ وہ ڈاکٹر کاظمی کی بطور ایم ایس تقرری، پی ایم ڈی سی کی جانب سے عائد پابندی اور قانونی حیثیت پر تفصیلی جواب پیش کریں۔
واضح رہے کہ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ڈاکٹر کاظمی کا میڈیکل لائسنس پی ایم ڈی سی کے تادیبی حکم نامے کے تحت معطل ہے، اس کے باوجود انہیں ایک حساس سرکاری طبی ادارے کا سربراہ مقرر کیا گیا، جو قانون اور ضوابط کی صریح خلاف ورزی ہے۔
عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاملے کو مرکزی آئینی کیس کے طور پر مقرر کر دیا ہے، جس کی سماعت 3 فروری 2026ء کو ہوگی۔


