جمعرات, فروری 5, 2026

متعلقہ خبریں

یہ بھی دیکھیں

کورونا فرنٹ لائن ورکرز کو بڑا ریلیف، سندھ ہائیکورٹ نے برطرفی روک دی، چیف سیکریٹری اور سیکریٹری صحت کو طلب کر لیا

کراچی : سندھ ہائیکورٹ نے کرونا وبا کے دوران بھرتی کیے گئے ویکسینیٹرز کو نوکری سے برطرف کرنے کے خلاف دائر درخواست پر اہم عبوری حکم جاری کرتے ہوئے درخواست گزاروں کی برطرفی روک دی ہے۔ عدالت نے چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری صحت اور دیگر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 14 جنوری تک جواب طلب کر لیا ہے۔

درخواست کی سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل نواز ڈاہری ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ حکومت نے ان ویکسینیٹرز کو کرونا وبا کے دوران ہنگامی بنیادوں پر بھرتی کیا تھا تاکہ عوام کو مہلک وبا سے محفوظ رکھا جا سکے۔ درخواست گزار اس وقت بھی محکمہ صحت کے ماں اور بچے کی ویکسینیشن پروگرام میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ محکمہ صحت کی جانب سے 4 دسمبر کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جس کے مطابق درخواست گزاروں کو مطلع کیا گیا کہ 28 دسمبر ان کی ملازمت کا آخری دن ہوگا۔ وکیل کے مطابق بغیر کسی قانونی جواز اور شفاف طریقہ کار کے برطرفی نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ ان ملازمین کے معاشی استحکام کو بھی شدید خطرے میں ڈال دیتی ہے۔

نواز ڈاہری ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ درخواست گزاروں نے نہایت مشکل حالات میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر فیلڈ میں خدمات انجام دیں، اور وبا کے دوران عوامی صحت کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ایسے ملازمین کو اچانک برطرف کرنا انصاف اور انسانی اصولوں کے منافی ہے۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ ویکسینیٹرز کو ملازمت سے برطرف کرنے کے اقدام کو کالعدم قرار دیا جائے اور حتمی فیصلے تک انہیں نوکری پر برقرار رکھنے کا حکم دیا جائے۔ عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد برطرفی کے نوٹیفکیشن پر عملدرآمد روک دیا اور فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت 14 جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔