جمعرات, فروری 5, 2026

متعلقہ خبریں

یہ بھی دیکھیں

کراچی میں آوارہ کتے کا خوفناک وار، 17 سالہ لڑکی جان سے گئی

کراچی: شہرِ قائد میں ریبیز ایک بار پھر جان لے گیا۔ انڈس اسپتال کورنگی میں آج 17 دسمبر کو اورنگی ٹاؤن سے تعلق رکھنے والی 17 سالہ لڑکی تصدیق شدہ ریبیز انسیفلائٹس کے باعث دم توڑ گئی، جس نے شہر میں آوارہ کتوں اور نامکمل ویکسینیشن کے خطرناک انجام کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا۔ متاثرہ لڑکی کو تقریباً ایک ماہ قبل ایک نامعلوم آوارہ کتے نے انگوٹھے پر کاٹا تھا، مگر افسوسناک طور پر بروقت اور مکمل ریبیز ویکسینیشن نہ ہو سکی؛ قریبی طبی مرکز میں مبینہ طور پر صرف ایک خوراک دی گئی، جبکہ مکمل پوسٹ ایکسپوژر پروفیلیکسیس نہ ہونے کے باعث موت نے آہستہ آہستہ اپنا راستہ بنا لیا۔

ذرائع کے مطابق مریضہ میں گزشتہ جمعہ سے ریبیز کی ہولناک اور ناقابلِ برداشت علامات ظاہر ہونا شروع ہوئیں، جن میں پانی دیکھ کر خوف، ہوا کے جھونکوں سے گھبراہٹ اور شدید بے چینی شامل تھی۔ جب اسے انڈس اسپتال منتقل کیا گیا تو بیماری جان لیوا مرحلے میں داخل ہو چکی تھی اور ڈاکٹروں کی تمام تر کوششیں بے سود ثابت ہوئیں۔ اسپتال حکام کے مطابق رواں سال اب تک ریبیز سے آٹھ اموات رپورٹ ہو چکی ہیں، جبکہ 16 ہزار سے زائد جانوروں کے کاٹنے کے کیسز انڈس اسپتال میں لائے جا چکے ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کراچی ایک خاموش مگر خطرناک وبا کی لپیٹ میں ہے۔

ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ریبیز سو فیصد قابلِ بچاؤ مرض ہے، مگر علامات ظاہر ہونے کے بعد یہ تقریباً ہمیشہ موت پر منتج ہوتا ہے، جس سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ آخر کیوں شہریوں کو مکمل ویکسینیشن، بروقت علاج اور آوارہ کتوں کے مؤثر کنٹرول سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ محکمہ صحت اور بلدیاتی اداروں کے لیے ایک خوفناک الارم ہے، کیونکہ معمولی سی غفلت ایک اور زندگی نگل سکتی ہے