جمعرات, فروری 5, 2026

متعلقہ خبریں

یہ بھی دیکھیں

ڈاؤ یونیورسٹی کا پندرہواں کانووکیشن، 2,894 طلبہ و طالبات کو ڈگریاں، تعلیمی میدان میں طالبات کا شاندار غلبہ

کراچی: ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی وائس چانسلر پروفیسر نازلی حسین نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے اس جدید دور میں مسابقت فطری عمل ہے، تاہم لچک، مسلسل محنت اور سیکھنے کا جذبہ ہی انسان کو بہتر مواقع تک لے جاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پیشہ ورانہ جدوجہد کے دوران انسانی جانوں اور اخلاقی اقدار کی پاسداری ہی اصل سرمایہ ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے پندرھویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جو اوجھا کیمپس کرکٹ گراؤنڈ میں منعقد ہوا۔ تقریب میں پرو وائس چانسلر پروفیسر جہاں آرا حسن، کنٹرولر امتحانات محسنہ زینی، ڈاؤ انٹرنیشنل میڈیکل کالج کی پرنسپل پروفیسر عظمیٰ بخاری، چیئرپرسن کانووکیشن کمیٹی پروفیسر صبا سہیل، فیکلٹی ممبران، طلبہ و طالبات اور والدین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

وائس چانسلر نے کہا کہ ڈاؤ میڈیکل کالج نے حال ہی میں اپنے 80 سالہ تعلیمی سفر کی تکمیل کی ہے، جو ادارے کی علمی خدمات اور شاندار روایات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاؤ یونیورسٹی 20 سے زائد ذیلی اداروں کے ذریعے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ سطح پر تعلیم فراہم کر رہی ہے اور طب کے میدان میں عالمی سطح پر نمایاں مقام رکھتی ہے۔ دنیا کی پہلی زینو ٹرانسپلانٹیشن سے لے کر ایس آئی یو ٹی جیسے اداروں کے قیام تک، ڈاؤ کے طلبہ نے پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔

انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ کو تلقین کی کہ وہ والدین کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھیں، اور اگر اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرونِ ملک جائیں تو مہارتیں حاصل کر کے وطن واپس آئیں اور قوم کی خدمت کریں۔ وائس چانسلر نے سول اسپتال اور ڈاؤ اسپتال میں عملی تربیت کو دنیا کا بہترین تجربہ قرار دیا اور سابق طلبہ کو ایلومنائی پورٹل کے ذریعے یونیورسٹی سے رابطہ برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔

کانووکیشن میں یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر اشعر آفاق نے ایم بی بی ایس کے طلبہ و طالبات سے انسانیت کی بلا امتیاز خدمت کا حلف لیا۔ چیئرپرسن کانووکیشن کمیٹی پروفیسر صبا سہیل نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ کانووکیشن کا دن طلبہ کی زندگی کا اہم سنگِ میل ہے اور انہیں امید ہے کہ گریجویٹس ڈاؤ یونیورسٹی کا نام روشن کریں گے۔

تقریب میں ایم بی بی ایس، بی ڈی ایس، فارم ڈی، ڈی پی ٹی اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز سمیت مختلف شعبہ جات کے 2,894 طلبہ و طالبات کو ڈگریاں تفویض کی گئیں۔ اس موقع پر میڈیسن کے ممتاز استاد، مرحوم پروفیسر محمد شفیع قریشی کے نام سے موسوم بیسٹ گریجویٹ ایوارڈ ڈاؤ میڈیکل کالج کی طالبہ تانیر فاطمہ کو دیا گیا۔

کانووکیشن میں مجموعی طور پر 67 گولڈ، سلور اور برونز میڈلز دیے گئے۔ قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ 22 گولڈ میڈلز میں سے 21 طالبات نے حاصل کیے، جبکہ صرف ایک گولڈ میڈل ڈاؤ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل ٹیکنالوجی کے طالب علم ایم حمزہ صدیقی کے حصے میں آیا۔ اسی طرح 13 بیسٹ گریجویٹ ایوارڈز میں سے تمام طالبات نے حاصل کیے، جس سے تعلیمی میدان میں طالبات کی نمایاں برتری واضح ہو گئی