کراچی : محکمہ صحت سندھ میں نان کیڈر ترقی یافتہ ملازمین کے خلاف شروع ہونے والی چھان بین کے دوران پہلا واضح کیس سامنے آ گیا ہے۔ ڈسٹرکٹ سینٹرل کے وارڈ سرونٹ سید سعد حسین کو جعلسازی اور خلافِ ضابطہ طریقے سے جونیئر کلرک (بی ایس-11) کے عہدے پر ترقی دینے کے معاملے پر سیکریٹری صحت سندھ نے باضابطہ نوٹس لیتے ہوئے اس کی سروس بک اور مکمل ملازمت ریکارڈ طلب کیا تھا جو تاحال فراہم نہیں کیا جاسکا تاہم اب ڈی جی ہیلتھ کی جانب سے نان کیڈر ترقیوں کی تفصیلات طلب کرنے پر یہ کیس دوبارہ کھل کر سامنے آگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : غیر قانونی و مشکوک ترقی ، ڈسٹرکٹ سینٹرل کا وارڈ سرونٹ اچانک جونیئر کلرک بن گیا
ہیلتھ ٹائمز کی جانب سے 28 جنوری 2025 کو شائع ہونے والی تحقیقی خبر کے بعد سیکریٹری صحت سندھ کی ہدایت پر سیکشن افسر پیرا میڈیکل سیکشن ڈاکٹر اسد کھتری نے 7 فروری 2025 کو باضابطہ مراسلہ جاری کیا، جس میں ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کراچی ڈاکٹر ثاقب شیخ کو حکم دیا گیا ہے کہ گریڈ 2 کے وارڈ سرونٹ سے گریڈ 11 میں غیر قانونی ترقی پانے والے ملازم سید سعد حسین کی سروس پروفائل، سروس بک اور تمام متعلقہ کاغذات فوری طور پر دفترِ سیکریٹری صحت میں جمع کرائے جائیں تاکہ قانون و ضابطے کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : وارڈ سرونٹ کی غیر قانونی ترقی کا معاملہ ، سیکریٹری صحت نے سعد حسین کی ملازمت کا ریکارڈ طلب کر لیا
ذرائع کے مطابق سید سعد حسین 2013 میں وارڈ سرونٹ بھرتی ہوئے اور 2023 تک اسی عہدے پر تعینات رہے، تاہم سابق ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کراچی ڈاکٹر عبدالحمید جمانی نے اپنی ریٹائرمنٹ کے آخری روز 14 دسمبر 2023 کو لیٹر نمبر DHSK(Estab)/10444/48 کے ذریعے انہیں جونیئر کلرک (بی ایس-11) کے طور پر ترقی دے دی۔ ہیلتھ ٹائمز کے پاس موجود اس لیٹر میں ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی (DPC) کی سفارش کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی کمیٹی سرے سے موجود ہی نہیں تھی۔ محض کاغذی کارروائی مکمل دکھانے کے لیے ڈی پی سی کا حوالہ شامل کیا گیا، جو اس ترقی کو صریحاً جعلی اور غیر قانونی ثابت کرتا ہے اور کسی بھی قسم کی کمیٹی عدالتی احکامات اور سول سرونٹ رولز کے برخلاف وارڈ سرونٹ کو جونیئر کلرک پر ترقی نہیں دے سکتی۔
یہ بھی پڑھیں : وارڈ سرونٹ کی غیر قانونی ترقی، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز جعلساز ملازم کا ریکارڈ سیکریٹری صحت کو فراہم کرنے سے گریزاں
ذرائع کے مطابق وارڈ سرونٹ کا سروس اسٹرکچر جونیئر کلرک کے عہدے پر ترقی کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ ترقی واضح طور پر آؤٹ آف کیڈر تھی، جو نہ صرف سول سرونٹس رولز بلکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے، کیونکہ عدالت عظمیٰ آؤٹ آف کیڈر ترقیوں پر پابندی عائد کر چکی ہے۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ دسمبر 2023 میں اس غیر قانونی ترقی پر اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ کے دفتر نے بھی اعتراض اٹھایا تھا، اسی وجہ سے دسمبر 2023 سے اپریل 2024 تک کی پے سلپس میں سعد حسین کا عہدہ وارڈ سرونٹ ہی درج رہا۔ بعد ازاں مبینہ رشوت کے ذریعے وہاں بھی کیڈر تبدیل کروایا گیا اور مئی 2024 کی پے سلپ میں انہیں جونیئر کلرک ظاہر کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : نان کیڈر ترقی یافتہ ملازمین کی شامت، محکمہ صحت سندھ میں بڑے پیمانے پر چھان بین کا آغاز
یہ کیس محکمہ صحت سندھ میں برسوں سے جاری نان کیڈر ترقیوں کے گھناؤنے کھیل کی صرف ایک مثال ہے۔ باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ سید سعد حسین کا معاملہ دراصل برفانی تودے کی نوک ہے، آئندہ دنوں میں مزید نام سامنے آنے اور بڑے افسران کے لیے مشکلات بڑھنے کا قوی امکان ہے۔


