کراچی : محکمہ صحت سندھ میں سامنے آنے والے بدعنوانی کے بڑے اسکینڈل میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور مبینہ طور پر مرکزی کردار سمجھے جانے والے فرحان اسلام کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ محکمہ صحت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق فرحان اسلام، جو ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ سیکریٹریٹ میں “الاﺅڈ ٹو ورک” بنیاد پر تعینات تھے، کو فوری طور پر فارغ کرتے ہوئے ان کی اصل تعیناتی یعنی سندھ گورنمنٹ اسپتال ابراہیم حیدری رپورٹ کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ہیلتھ ٹائمز نے اپنی حالیہ رپورٹ میں اسد کھتری کے ساتھ فرحان اسلام کے مبینہ کردار کو بے نقاب کرتے ہوئے واضح طور پر نشاندہی کی تھی کہ محض ایک افسر کے تبادلے سے معاملہ حل نہیں ہوگا بلکہ اس پورے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔ خبر میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ فرحان اسلام کو بھی متعلقہ سیکشن سے ہٹایا جائے، جس کے بعد اب حکومتی اقدام سامنے آ گیا ہے۔
یاد رہے کہ ہیلتھ ٹائمز کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ میڈیکل ٹریٹمنٹ کیسز میں مبینہ بے ضابطگیوں اور سرکاری فنڈز کے غلط استعمال کے معاملے میں اسد کھتری کے ساتھ فرحان اسلام بطور مبینہ فرنٹ مین سرگرم رہا، جہاں درخواستوں کی وصولی سے لے کر منظوری کے عمل تک ایک منظم طریقے سے اثراندازی کی جاتی رہی۔ 27 کیسز میں سے 18 کی مبینہ غیر قانونی منظوری کے انکشافات نے اس اسکینڈل کو مزید سنگین بنا دیا تھا۔
ذرائع کے مطابق فرحان اسلام کی تبدیلی کو اس بڑے اسکینڈل میں ابتدائی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف تبادلوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ مکمل تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے کو منطقی انجام تک نہ پہنچایا گیا تو بدعنوانی کا یہ سلسلہ دوبارہ سر اٹھا سکتا ہے۔
باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ حالیہ اقدامات سے یہ تاثر ضرور ملا ہے کہ حکومت دباؤ میں آ کر حرکت میں آئی ہے، تاہم اب اصل امتحان شفاف انکوائری اور احتساب کا ہے۔ ذرائع کے مطابق اگر اسی رفتار سے کارروائیاں جاری رہیں تو محکمہ صحت میں برسوں سے جاری مبینہ بدعنوانی کے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جا سکتا ہے۔

