کراچی : محکمہ صحت سندھ میں مبینہ بدعنوانی اور مالی بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات کے بعد ہٹائے جانے والے افسر اسد کھتری کو محکمہ تعلیم میں اہم سرگرمیوں میں شامل کیے جانے پر شدید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ تازہ پیش رفت میں ان کی شرکت لڑکیوں کی تعلیم اور لیڈرشپ ٹریننگ سے متعلق ایک پروگرام میں سامنے آئی ہے، جس نے حکومتی پالیسیوں اور میرٹ پر سنگین سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ضلع ملیر میں منعقدہ ایک روزہ “لیڈرشپ اینڈ ایڈووکیسی ٹریننگ” سیشن میں، جو بچیوں کی تعلیم اور جینڈر ریسپانسیو بجٹنگ پر مرکوز تھا، اسد کھتری نے بطور سیکشن آفیسر بجٹ اینڈ فنانس شرکت کی اور شرکاء کو بریفنگ دی۔ یہ پروگرام محکمہ تعلیم سندھ، ملالہ فنڈ اور تھر ایجوکیشن الائنس کے اشتراک سے منعقد کیا گیا تھا۔
تاہم سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ وہی افسر جس پر حال ہی میں محکمہ صحت میں میڈیکل ٹریٹمنٹ کیسز میں بے ضابطگیوں، اختیارات کے ناجائز استعمال اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزامات سامنے آئے، اسے حساس نوعیت کے تربیتی پروگرامز میں کیوں شامل کیا جا رہا ہے؟ یاد رہے کہ میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق 27 کیسز میں سے 18 کی مبینہ غیر قانونی منظوری اور مالی فوائد کے الزامات اسی افسر سے جوڑے گئے تھے، جن پر تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا جا چکا ہے۔

تعلیمی حلقوں اور سماجی ماہرین نے اس اقدام پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ تعلیم جیسے حساس ادارے میں، خصوصاً لڑکیوں کی تربیت جیسے اہم معاملے میں، ایسے متنازع افسران کی شمولیت نہایت نامناسب ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کیا محکمہ تعلیم کے پاس باکردار اور سینئر ماہرین تعلیم کی کمی ہو گئی ہے، یا پھر ایسے افراد کو آگے لا کر غلط پیغام دیا جا رہا ہے؟
ماہرین کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف ادارہ جاتی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے بلکہ نوجوان طالبات کے لیے بھی ایک منفی مثال قائم ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت سندھ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لے اور واضح کرے کہ کس بنیاد پر ایک متنازع افسر کو ایسے پروگرامز میں نمائندگی دی جا رہی ہے۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر محکمہ تعلیم نے اس معاملے پر وضاحت نہ دی تو یہ تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جبکہ یہ پیش رفت حکومت کے احتسابی دعوؤں کے لیے بھی ایک بڑا امتحان بن چکی ہے۔

