کراچی : سندھ میں اتائیت (غیرقانونی طبی عمل) کے خاتمے کے لیے محکمہ صحت سندھ نے ایک بڑا اور سخت قدم اٹھاتے ہوئے صوبے بھر کے سرکاری نرسنگ، پیرا میڈیکل اور سپورٹنگ اسٹاف کو خبردار کیا ہے کہ غیرقانونی کلینک چلانے اور غلط طبی عمل میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس بارے میں باضابطہ اعلامیہ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز سندھ نے جاری کیا۔
یہ اقدام صوبے میں بڑھتی ہوئی اتائیت کے سامنے ایک واضح اور مضبوط سرکاری پالیسی کی عکاسی کرتا ہے لیکن اسی مثبت قدم کو غیر سنجیدگی اور منفی پروپیگنڈے کا نشانہ بناتے ہوئے بدعنوان رپورٹر عمران پیرزادہ نے اپنے ٹی وی ٹکرز میں ڈی جی ہیلتھ پر سنگین الزامات عائد کر دیئے۔

اس ضمن میں نشر ہونے والے ٹکرز میں ڈی جی صحت کی تصویر کے ساتھ لکھا گیا “چور چوری بھی کرے اور چور شور بھی — محکمہ صحت کا انوکھا اقدام”، “ڈی جی ہیلتھ بھی مختلف مقدمات پر عدالتوں میں پیش ہوتے رہے”، “پہلے اعلیٰ افسران سے شفافیت کا سرٹیفیکیٹ لیا جائے — اسٹاف کا اعتراض”، ذرائع کے مطابق یہ ٹکرز بغیر کسی ثبوت کے نشر کیے گئے اور ان کا مقصد محکمہ صحت سندھ کے مثبت اقدام کو متنازع بنانا تھا۔

ذرائع کے مطابق بدعنوان پیرزادہ کا یہ پرانا وطیرہ ہے کہ وہ اخلاقی پستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خبر اور ثبوت کے بجائے ذاتی حملوں پر اتر آتے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ پیرزادہ خود ہی پہلے رپورٹس شائع کر چکے ہیں کہ کراچی میں اتائیت عروج پر ہے اور محکمہ صحت کچھ نہیں کر رہا لیکن اب جب محکمہ صحت نے اس سنگین مسئلے کے خلاف عملی اقدام اٹھایا ہے تو انہوں نے اسی قدم کو تنقید کا نشانہ بنا کر صورتحال کو مزید مبہم بنا دیا۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ بغیر ثبوت کسی سرکاری افسر کو “چور” کہنا، ادارہ جاتی بدنامی پیدا کرنا اور نفرت یا ہراس پھیلانے والے ٹکرز نشر کرنا پیکا ایکٹ کے تحت قابلِ سزا جرم ہیں۔ مزید برآں قانونی ماہرین کے مطابق ڈی جی ہیلتھ ایسے الزامات پر عدالت سے رجوع کر کے ہتکِ عزت کا دعویٰ بھی کر سکتے ہیں۔
محکمہ صحت کے جاری اعلامیہ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ غیرقانونی طبی پریکٹس میں ملوث اہلکاروں کے خلاف زیرو ٹالرنس، تمام اضلاع سے 15 روز میں تحریری سرٹیفکیٹ طلب اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے سخت حکمتِ عملی بنائی جائے گی۔ یہ اقدام اتائیت کے خلاف وہی عملی قدم ہے جس کا مطالبہ میڈیا اور عوام مسلسل کرتے آئے ہیں۔


