پیر, مارچ 23, 2026

متعلقہ خبریں

یہ بھی دیکھیں

خیبر پختونخوا ڈاکٹر وردا کے قتل پر سراپا احتجاج — ہسپتالوں کے باہر رونا، چیخیں، نعرے؛ خواتین ڈاکٹرز غم سے نڈھال — کل صوبے بھر میں او پی ڈیز بند رہیں گی

ایبٹ آباد : ایبٹ آباد کی نوجوان لیڈی ڈاکٹر وردا کے بہیمانہ قتل کے بعد پورا خیبر پختونخوا شدید غم و غصے میں ہے۔ پیر کے روز صوبے کے تمام بڑے شہروں میں ہسپتالوں کے باہر غیر معمولی ہنگامہ خیز مناظر دیکھنے میں آئے، جہاں ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈکس اور عام شہری جوق در جوق پہنچ کر احتجاج کرتے رہے۔ کئی شہروں میں ہسپتالوں کے داخلی دروازوں پر سینکڑوں سفید کوٹوں کی قطاریں تھیں، کہیں نعرے بلند ہو رہے تھے، تو کہیں خواتین ڈاکٹرز ایک دوسرے کے کندھوں سے لگ کر دھاڑیں مار کر رو رہی تھیں۔

ڈاکٹر وردا کی اپنے بچوں کے ہمراہ یادگار تصویر

پشاور، مردان، ایبٹ آباد، بنوں، صوابی، کوہاٹ، سوات اور ڈی آئی خان سمیت پورے صوبے میں جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے، جہاں ڈاکٹر وردا کی تصویر اٹھائے نوجوان ڈاکٹر سرِعام فریاد کرتے دکھائی دیے کہ “ہم محفوظ نہیں… ہماری بہن آج قتل ہوئی ہے، کل کون ہوگا؟” کئی خواتین ڈاکٹرز آبدیدہ ہو کر میڈیا سے بات نہ کر سکیں اور کیمروں کے سامنے ہی روپڑیں۔

ڈاکٹرز نے جذباتی تقریروں میں یہ سوال اٹھایا کہ جب مسیحاؤں کے لیے ہی اس ملک میں تحفظ نہیں تو مریضوں کا کیا ہوگا؟ کئی جگہوں پر پیرا میڈکس نے احتجاجی دھرنے دیے جبکہ مختلف شہروں میں سیاہ پٹیاں باندھ کر خاموش ریلیاں بھی نکالی گئیں۔

ڈاکٹر وردا کے والد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے

پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (PDA) نے حکومت کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے اعلان کیا کہ کل بروز منگل پورے خیبر پختونخوا میں او پی ڈیز مکمل طور پر احتجاجاً بند رہیں گی۔ تمام اضلاع کے ڈاکٹر اپنے اپنے ہسپتالوں کے باہر جمع ہو کر مظاہرے اور پریس کانفرنسز کریں گے۔ ایبٹ آباد میں ہنگامی حالات اس وقت مزید جذباتی ہو گئے جب ڈاکٹر وردا کی میت کی خبر عام ہوئی۔ شہر کے ہسپتالوں میں کہرام مچ گیا۔ ساتھی ڈاکٹرز اور دوست روتے ہوئے کہتے رہے کہ “اگر وردا جیسی محنتی، شریف اور معصوم ڈاکٹر محفوظ نہیں تو ہم کس سسٹم میں رہ رہے ہیں؟”

ایبٹ آباد کی قانونی برادری بھی ڈاکٹر وردا کے قتل پر شدید غم اور غصے میں مبتلا ہے۔ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ایبٹ آباد کے صدر عمران یونس تنولی نے اس المناک واقعے کو پورے خطے کے لیے لرزہ خیز قرار دیتے ہوئے سوگوار خاندان اور ڈاکٹر کمیونٹی کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وحشیانہ تشدد صرف ڈاکٹر برادری نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، اور مجرموں کے خلاف فوری، فیصلہ کن اور بے لاگ کارروائی ناگزیر ہے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔

ڈسٹرکٹ بار کے سیکریٹری اسد خان جدون نے بھی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر وردا کا بہیمانہ قتل ہمارے معاشرے میں بڑھتے ہوئے جرائم کی بدترین مثال ہے، اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں—خصوصاً انسانیت کی خدمت کرنے والوں—کی حفاظت یقینی بنائے۔ ایبٹ آباد بار نے ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور خاندان کے تمام مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے شفاف، جامع اور فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔