پیر, مارچ 23, 2026

متعلقہ خبریں

یہ بھی دیکھیں

ایف بی آر کی ’’جارحانہ ٹیکس پالیسی‘‘ پر پی ایم اے کا شدید احتجاج — ڈاکٹروں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ فوراً بند کیا جائے

کراچی : پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، ریجنل ٹیکس آفس فیصل آباد کی جانب سے جاری نئی ہدایات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پی ایم اے کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کے اقدامات ’’ٹیکس تعمیل کے نام پر ڈاکٹروں کو ہراساں کرنے‘‘ کے مترادف ہیں۔

ایف بی آر نے 2 دسمبر 2025 (حوالہ نمبر 987) کو جاری اپنے خط میں طبی شعبے کو ’’حقیقی آمدنی چھپانے والا‘‘ شعبہ قرار دیا تھا اور سیکشن 177 اور 175C کے تحت ڈاکٹرز، نجی کلینکس اور ہسپتالوں کے خلاف فوری سرویلنس، مریضوں کی فیسوں کی نگرانی، سرجریز کی گنتی اور جبری آڈٹ جیسے سخت اقدامات کی ہدایات جاری کی تھیں۔

پی ایم اے نے اس مؤقف کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر نے میڈیکل پریکٹس کو خالصتاً منافع بخش کاروبار سمجھ کر وہ اقدام کیے ہیں جو نہ صرف غیر منصفانہ ہیں بلکہ پیشے کے انسانی پہلو کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہیں۔

پی ایم اے کے مطابق ڈاکٹر ’’خدمت فراہم کرنے والے‘‘ ہیں، تاجر نہیں۔ وہ روزانہ جانیں بچانے کا کام کرتے ہیں اور انہیں کاروباری طبقے کے طور پر ٹریٹ کرنا سراسر ناانصافی ہے۔ اس رویے سے ڈاکٹروں کا حوصلہ پست ہوگا اور صحت کے شعبے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ پاکستان میں سرکاری صحت کی سہولیات پہلے ہی ناکافی ہیں۔ ایسے میں نجی شعبہ خصوصاً فیملی فزیشنز عوام تک بنیادی صحت کی سہولت پہنچانے میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ایف بی آر کی جارحانہ پالیسیاں صحت عامہ کے پورے نظام کو متاثر کریں گی۔

پی ایم اے نے اس بات پر خاص طور پر زور دیا کہ ڈاکٹروں پر پہلے ہی متعدد مالی ذمہ داریاں موجود ہیں، جن میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کی فیس، صوبائی ہیلتھ کیئر کمیشن کی فیس، ایکسائز ٹیکس، سروس پر سیلز ٹیکس اور باقاعدہ انکم ٹیکس شامل ہیں۔ ایسے میں مزید ٹیکس نگرانی اور جبری آڈٹ غیر ضروری ہیں اور صرف بے چینی پیدا کر رہے ہیں۔

پی ایم اے نے حکومت پاکستان اور ایف بی آر سے تین مطالبات کیے اول، طبی شعبے کے خلاف جارحانہ سروے اور آڈٹ کی ہدایات فوری طور پر واپس لی جائیں۔ دوم، حکومت اپنے غیر ضروری اخراجات کم کرے اور ضروری سروس فراہم کرنے والوں پر بوجھ ڈالنے سے گریز کرے اور سوم، ڈاکٹروں کو ٹیکس میں ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ وہ ملک کی خدمت بہتر طریقے سے جاری رکھ سکیں۔

آخر میں، پی ایم اے کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عبدالغفور شورو نے واضح کیا کہ ایسوسی ایشن ڈاکٹر برادری کے ساتھ کھڑی ہے اور حکومت پر زور دیتی ہے کہ وہ ’’تادیبی‘‘ رویہ چھوڑ کر ہمدردی اور تعاون کی پالیسی اپنائے۔