کراچی : حق پرست رُکنِ سندھ اسمبلی، انجینئر حافظ سید اعجازالحق نے صوبائی وزیرِ صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو سے خصوصی ملاقات کی، جس میں صحت کے شعبے سے متعلقہ معاملات پر تفصیلی تبادلۂ خیال اور علاقے کے اہم طبی مسائل زیرِ غور آئے۔ اس موقع پر ایم پی اے سید اعجازالحق نے وزیرِ صحت کی طرف سے محکمۂ صحت میں عوامی فلاح و بہبود کے سلسلے میں عملی اقدامات کی راہ ہموار کرنے پر ان کا خیرمقدم کیا۔
ملاقات کے دوران ایم پی اے نے صوبے بھر خصوصاً اپنے حلقے میں طبی خدمات کی فراہمی، ہسپتالوں میں عملے اور طبی ساز و سامان کی قلت، ہنگامی طبی خدمات کی دستیابی، اور عوامی صحت کے فروغ کے حوالے سے درپیش مسائل سے وزیرِ صحت کو تفصیلاً آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات پہنچانا اولین ترجیح ہونی چاہیے اور اس مقصد کے لیے محکمۂ صحت کی فعال مداخلت ناگزیر ہے۔
ملاقات کا اہم محور اورنگی ٹاؤن کے علاقے گلشنِ ضیاء میں قائم کیے جانے والے 100 بستروں والے ہسپتال کا جاری منصوبہ تھا، جو سنۂ 2013 سے زیرِ عمل ہے۔ اس بارے میں دونوں رہنماؤں نے تفصیلی گفتگو کی اور منصوبے کی تاخیر، فنانسنگ، آپریشنل تیاریوں اور مستقبل کے شیڈول پر تبادلۂ خیال کیا۔ ایم پی اے نے اس ہسپتال کو جلد از جلد فعال کرنے کی اہمیت اجاگر کی کیونکہ یہ ادارہ نہ صرف مقامی آبادی کو بنیادی اور ثانوی سطح کی طبی خدمات فراہم کرے گا بلکہ قریبی علاقوں میں مریضوں کے بوجھ کو بھی کم کرے گا۔
وزیرِ صحت عذرا پیچوہو نے اس منصوبے پر رسمی دلچسپی کے ساتھ ساتھ محکمہ کے محکماتی عمل، فنڈنگ کے امور اور مناسب اسٹافنگ کے تقاضوں کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ محکمۂ صحت منصوبے کی تکمیل اور ہسپتال کے جلد از جلد فعال ہونے کے لیے متعلقہ محکموں کے ساتھ رابطہ بڑھائے گا اور درکار تکنیکی و انتظامی معاونت فراہم کرے گا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ عوامی صحت کے دفاع میں مقامی نمائندوں، محکمۂ صحت اور انتظامیہ کے مابین مربوط حکمتِ عملی اور باقاعدہ رابطہ لازمی ہے۔
املاقات کے اختتام پر ایم پی اے انجینئر حافظ سید اعجازالحق نے وزیرِ صحت کا پھر سے شکریہ ادا کیا اور عوامی فلاح کے منصوبوں میں صوبائی حکومت کی شمولیت اور تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔


