جمعرات, فروری 5, 2026

متعلقہ خبریں

یہ بھی دیکھیں

سندھ میں H3N2 انفلوئنزا وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ، ڈائریکٹوریٹ ہیلتھ سندھ کی ایڈوائزری جاری

حیدرآباد: ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سندھ نے عوام اور ہسپتالوں کو خبردار کرتے ہوئے H3N2 انفلوئنزا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے خطرے کے پیش نظر ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ موسم کے اس موسم میں انفلوئنزا کی شدت بڑھ سکتی ہے اور اس سے انفیکشن اور شدید سانس کی بیماریوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ H3N2 وائرس، انفلوئنزا اے کی ایک ذیلی قسم، نہایت تیزی سے پھیلتا ہے اور بچوں، بزرگوں اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ وائرس کی علامات میں شدید بخار، کھانسی، نزلہ، گلے میں درد، سر درد، جسم میں درد، تھکن، متلی اور بچوں میں اسہال شامل ہیں۔ بعض معاملات میں یہ وائرس نمونیا اور دیگر جان لیوا پیچیدگیوں کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

ڈائریکٹوریٹ کے مطابق H3N2 وائرس متاثرہ شخص کے کھانستے، چھینکتے یا بولتے وقت خارج ہونے والے ذرات سے، قریبی رابطے سے، یا آلودہ سطحوں کو چھونے اور پھر آنکھ، ناک یا منہ لگانے سے منتقل ہوتا ہے۔ تشخیص کے لیے لیبارٹری ٹیسٹ جیسے RT-PCR، وائرل کلچر یا اینٹی باڈی ٹیسٹ ضروری ہیں۔

ایڈوائزری میں عوام کو شدید انتباہ دیا گیا ہے کہ وہ حفاظتی اقدامات اختیار کریں، جن میں ماسک پہننا، بار بار اور اچھی طرح ہاتھ دھونا، رش والی جگہوں سے گریز اور انفلوئنزا ویکسین لگوانا شامل ہیں۔ ہسپتالوں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ انفلوئنزا جیسے کیسز کی بروقت نگرانی اور رپورٹنگ یقینی بنائیں، اور اینٹی وائرل ادویات اور دیگر احتیاطی اقدامات فوری طور پر نافذ کریں۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سندھ نے کہا ہے کہ اس وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کی صورت میں عوامی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا ہو سکتے ہیں، لہٰذا ہر فرد کو اپنی اور اپنے اہل خانہ کی حفاظت کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا لازمی ہے