کراچی: بدعنوان رپورٹر عمران پیرزادہ نے حق پرست ایم پی اے سید اعجاز الحق کو مبینہ طور پر گمراہ کرکے اپنی مکروہ صحافت کا قائل کر لیا ہے جس کے بعد دونوں کے درمیان گٹھ جوڑ قائم ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایم پی اے سید اعجاز الحق رپورٹر کی بدنیتی سے واقف نہیں تھے تاہم رپورٹر کی گمراہ کن معلومات نے ایم پی اے کو بھی اس گٹھ جوڑ کا حصہ بنا دیا جس سے محکمہ صحت سندھ کے افسران شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔
رپورٹس کے مطابق عمران پیرزادہ محض ذاتی مفادات اور بلیک میلنگ کے لیے محکمہ صحت سندھ کے افسران کے خلاف من گھڑت، جھوٹی اور گمراہ کن خبریں پھیلانے میں مصروف ہے۔ اس کا مقصد افسران کو دباؤ میں لانا، ان سے مبینہ فائدہ حاصل کرنا اور اپنی رسائی و اثر و رسوخ بڑھانا ہے۔ افسران نے بتایا کہ اس مبینہ گٹھ جوڑ اور بلیک میلنگ نے محکمہ کے کام کے ماحول کو بری طرح متاثر کیا ہے اور ان کی پیشہ ورانہ ساکھ و ادارے کی عزت کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ ایم پی اے سید اعجاز الحق نے رپورٹر سے تفصیلات طلب کرنا شروع کر دی ہیں جس کا رپورٹر نے ٹی وی چینل پر پرچار شروع کر دیا ہے جس سے یہ تاثر بھی مضبوط ہوا ہے کہ دونوں کے درمیان کم از کم رابطہ اور ممکنہ تعاون موجود ہے۔ محکمہ صحت سندھ کے ملازمین اس صورتحال کو سنگین قرار دیتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور افسران کے تحفظ کے لیے اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف محکمہ کی انتظامی کارکردگی کے لیے خطرناک ہے بلکہ سرکاری افسران کی عزت، پیشہ ورانہ وقار اور ادارے کی ساکھ کے لیے بھی شدید نقصان دہ ہے۔ اس کے سیاسی پہلو بھی تشویشناک ہیں اور ادارے کے اندرونی امور میں غیر ضروری مداخلت کا امکان بڑھا رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران پیرزادہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے تاکہ اپنے ذاتی مفادات حاصل کرے، چاہے اس کے لیے ایم پی اے کو گمراہ کرنا پڑے یا محکمہ کے اعلیٰ افسران پر دباؤ ڈالنا پڑے۔ اس کے نتائج نے محکمہ صحت سندھ میں بے یقینی اور خوف کا ماحول پیدا کر دیا ہے اور اس کیس کی مزید چھان بین جاری ہے۔


