کراچی : جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (JPMC) کے ملازمین نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے JPMC آپریشن و منیجمنٹ ایکٹ 2025 کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے اور اسے ملازمین کے بنیادی حقوق، آئینی اصولوں اور اٹھارویں ترمیم کی روح کے منافی قرار دیا ہے۔ ملازمین نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی غیر آئینی اور غیر شفاف تبدیلی کو قبول نہیں کریں گے۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد جناح اسپتال مکمل طور پر سندھ حکومت کے ماتحت منتقل ہو چکا ہے، اور اس کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی آئینی طریقہ کار کے بغیر ممکن نہیں۔ بیان میں الزام لگایا گیا ہے کہ موجودہ ایکٹ نہ صرف اس آئینی حق کی خلاف ورزی ہے بلکہ اسپتال کے انتظامی، قانونی اور سروس اسٹرکچر کو غیر مستحکم بنا رہا ہے۔
ملازمین نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ ہمیشہ وفاق اور صوبے دونوں کے تحت کام کرتے آئے ہیں، مگر اس کے باوجود ان کے ساتھ “ناروا سلوک” جاری ہے۔ ان کے مطابق نیا ایکٹ ملازمین کے سروس اسٹرکچر، قانونی حیثیت، ملازمت کے تحفظ اور بنیادی حقوق پر براہِ راست حملہ ہے۔
بورڈ آف گورنرز کی تشکیل پر بھی شدید اعتراض اٹھایا گیا، اور کہا گیا کہ یہی ماڈل سابقہ وفاقی حکومت نے متعارف کرانے کی کوشش کی تھی جسے اس وقت سندھ حکومت نے خود مسترد کر دیا تھا۔ ملازمین نے سوال اٹھایا کہ آج وہی حکومت کس بنیاد پر اسی متنازع ماڈل کو نافذ کرنا چاہتی ہے؟
جوائنٹ ایمپلائز کمیٹی نے اعلان کیا کہ ملازمین اپنے آئینی اور قانونی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے اور مطالبہ کیا کہ ایکٹ کی منظوری فوری روکی جائے، ملازمین کے تحفظات دور کیے جائیں، کسی بھی تبدیلی سے پہلے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے اور اسپتال اور ملازمین کے آئینی حقوق کو مکمل تحفظ دیا جائے
ملازمین نے خبردار کیا کہ اگر ایکٹ زبردستی منظور کیا گیا تو وہ پُرامن احتجاج اور قانونی چارہ جوئی سمیت تمام آئینی راستے اختیار کریں گے۔ آخر میں کمیٹی نے اعلان کیا کہ وہ ملازمین کے حقوق، ادارے کے تحفظ اور عوامی خدمت کے مشن کے لیے ہر فورم پر متحد ہو کر جدوجہد جاری رکھیں گے۔


