کراچی (خصوصی رپورٹ) جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی داخلوں میں ہونے والی بے ضابطگیوں کا ایک بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے جس نے یونیورسٹی کے شفافیت کے تمام دعوؤں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تحقیقات کے مطابق یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن سہراب زمان کو پی ایچ ڈی پروگرام میں داخلہ دلوانے کے لیے نہ صرف قواعد کی کھلی خلاف ورزی کی گئی بلکہ پورا داخلہ نظام باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تبدیل کیا گیا۔
باوثوق ذرائع کے مطابق، پی ایچ ڈی این او سی کے اجرا کے بعد سہراب زمان اور ایڈمیشن افسر سید علی کاشان کو “پسندیدہ امیدوار” قرار دے کر پورا داخلہ عمل ان کے مطابق ڈھالا گیا حالانکہ دونوں امیدوار بنیادی اہلیت کے معیار پر بھی پورے نہیں اترتے تھے۔
ذرائع کے مطابق سہراب زمان جو ایم اے کی ڈگری رکھتے ہیں، داخلہ ٹیسٹ دینے کے اہل ہی نہیں تھے اس کے باوجود انہیں پہلے “اہل امیدوار” قرار دیا گیا پھر مبینہ طور پر باقاعدہ انٹری ٹیسٹ میں بیٹھے بغیر پاس ظاہر کیا گیا اور آخرکار انہیں پی ایچ ڈی پروگرام کے لیے زیرو سیمسٹر کے تحت مکمل داخلہ جاری کر دیا گیا۔
داخلہ عمل کی مبینہ نگرانی اور تمام غیر قانونی فیصلوں کی کارروائی میں ایڈمیشن ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ ڈاکٹر فاطمہ عابد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایڈمیشن ثانیہ فرید اور انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اینڈ بزنس مینیجمنٹ کی سربراہ ڈاکٹر کلپنا کماری شامل تھیں جنہوں نے پورے عمل کو اپنے مکمل کنٹرول میں رکھا۔
ذرائع کے مطابق اسکروٹنی کے دوران مبینہ طور پر جان بوجھ کر اعتراضات کو نظرانداز کیا گیا، غیر اہل امیدواروں کو اہل بنایا گیا، او ایم آر شیٹس میں ردوبدل کیا گیا، نمبر تبدیل کیے گئے، بعض شیٹس دوبارہ بھری گئیں اور نتائج کو پسند کے مطابق ڈھالا گیا۔
بعد ازاں جب معاملہ یونیورسٹی کے اندر سے شدید اعتراضات کا باعث بنا تو سید علی کاشان کو خاموشی سے داخلے سے دستبردار کرا دیا گیا، تاہم سہراب زمان کا داخلہ ہر اعتراض کے باوجود برقرار رکھا گیا۔

مزید سنگین بات یہ کہ سہراب زمان پر الزام ہے کہ وہ یونیورسٹی میں غیر قانونی داخلوں کا ایک باقاعدہ “فکسڈ نیٹ ورک” چلاتے ہیں جو مبینہ طور پر مختلف پروگراموں میں بھاری رقوم کے عوض امیدواروں کو داخلے دلواتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسی نیٹ ورک میں ڈاکٹر فاطمہ عابد نہایت اہم کردار ادا کرتی ہیں، جبکہ سہراب زمان پر ماضی میں MBBS انٹری ٹیسٹ کے پرچے لیک کرنے کے شبہات بھی ظاہر کیے جاتے رہے ہیں۔
یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ پر بطور ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن جاری سہراب زمان کا پیغام مزید تضاد پیدا کرتا ہے، جس میں وہ لکھتے ہیں کہ
“As the Director of Administration, I am committed to ensuring the highest quality of services… in full compliance with established rules and regulations.”
ذرائع کا کہنا ہے کہ انہی “قواعد و ضوابط” کو پامال کرتے ہوئے اپنے لیے پی ایچ ڈی داخلہ حاصل کرنا انتظامی بدعنوانی کی ایسی مثال ہے جس نے ادارے کی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
ہیلتھ ٹائمز نے اس معاملے پر چاروں متعلقہ افسران ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن سہراب رستم زمان، ہیڈ آف ایڈمیشن ڈاکٹر فاطمہ عابد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایڈمیشن ثانیہ فرید اور ڈاکٹر کلپنا کماری سے موقف طلب کیا۔
سہراب رستم زمان نے موقف دیتے ہوئے کہا کہ پی ایچ ڈی پروگرام کے داخلوں پر اعتراضات کی وجہ سے ’فی الحال اسے روک دیا گیا ہے‘، تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’داخلے مکمل ہو چکے ہیں، صرف کلاسیں شروع نہیں ہوئیں جنہیں روک دیا گیا ہے‘۔ اپنی اہلیت اور تعلیمی اسناد سے متعلق سوال پر انہوں نے جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ رجسٹرار سے تحریری درخواست کے ذریعے معلومات حاصل کی جائیں۔
ڈاکٹر فاطمہ عابد نے جواب میں کہا کہ اس معاملے پر براہِ راست ان سے بات کرنے کے بجائے یونیورسٹی کے کمیونیکیشن آفس سے رابطہ کیا جائے۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایڈمیشن ثانیہ فرید اور ڈاکٹر کلپنا کماری نے خبر شائع ہونے تک کوئی جواب نہیں دیا۔


