منگل, اپریل 28, 2026

متعلقہ خبریں

یہ بھی دیکھیں

کورنگی میں اتائی مافیا کا راج، سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے نام پر لاکھوں کی بھتہ خوری، کلینکس سیل اور کھولنے کا دھندا، سرکاری اہلکاروں کے ملوث ہونے کے الزامات، تحقیقات کا مطالبہ

کراچی : ڈسٹرکٹ کورنگی میں اتائی ڈاکٹروں اور مبینہ سرکاری سرپرستی میں چلنے والے ایک منظم نیٹ ورک کی سرگرمیوں کا انکشاف ہوا ہے، جہاں سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے نام پر جعلی کارروائیاں کر کے لاکھوں روپے بھتہ وصول کیے جانے کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایک شخص ڈاکٹر عرفان بنگالی، جو خود کو ڈاکٹر فرین لاشاری سے منسوب کرتا ہے، غیر قانونی کلینک چلا رہا ہے اور خود کو سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کا نمائندہ ظاہر کر کے شہریوں اور کلینک مالکان کو بلیک میل کرتا ہے۔

الزامات کے مطابق مذکورہ شخص نہ صرف جعلی ادویات میڈیکل اسٹورز پر رکھوا کر مریضوں کو فراہم کر رہا ہے بلکہ ایک مبینہ جعلی ٹیم بھی تشکیل دی گئی ہے جو مارکیٹ میں چھاپے مارنے کا تاثر دے کر کلینک مالکان کو ہراساں کرتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ٹیم پہلے فون کے ذریعے معاملات طے کرنے کی کوشش کرتی ہے اور ناکامی کی صورت میں مبینہ طور پر متعلقہ افسران کے ہمراہ کلینک سیل کروا دیے جاتے ہیں۔

مزید انکشاف ہوا ہے کہ کلینکس کو سیل کرنے کے بعد بھاری رقوم کے عوض بغیر کسی قانونی طریقہ کار کے فوری طور پر دوبارہ کھول دیا جاتا ہے، جس پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس مبینہ نیٹ ورک میں نانا حسنین، یوسف، فارما والا خالد اور دیگر افراد کے نام بھی سامنے آئے ہیں جبکہ ڈسٹرکٹ کورنگی کے بعض ملازمین، جن میں احسن ایاز بنگش، رانا مبشر، کامران فرانسز اور ایک ریٹائرڈ ملازم پرویز شامل ہیں، پر بھی ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق متاثرہ کلینک مالکان سے لاکھوں روپے وصول کیے جانے کے شواہد، تصاویر اور تفصیلات بھی موجود ہیں، جنہیں جلد منظرعام پر لانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ معاملے کی سنگینی کے پیش نظر سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے ڈائریکٹر اینٹی کوئیکری زبیر سومرو سے فوری انکوائری کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ سیل کیے گئے کلینکس کو کن بنیادوں پر دوبارہ کھولا جاتا ہے اور اس میں کون کون ملوث ہے۔

دوسری جانب اس معاملے پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کورنگی ڈاکٹر اشفاق میمن سے موقف لیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ احسن بنگش نامی ملازم کو چھ ماہ قبل ہی ریلیف کر دیا گیا تھا جبکہ دیگر ملازمین کے خلاف انکوائری جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت کا کسی بھی غیر قانونی سرگرمی یا مبینہ اینٹی کوئیکری نیٹ ورک سے کوئی تعلق نہیں، اور جو بھی قانون شکنی میں ملوث پایا گیا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

ماہرین صحت اور شہری حلقوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتائیت ایک خطرناک لعنت ہے جو انسانی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے، اس کے خاتمے کے لیے نہ صرف سخت قانون سازی بلکہ بلاامتیاز کارروائی ناگزیر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس مبینہ کرپشن نیٹ ورک کو بے نقاب کر کے ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔