جمعرات, فروری 5, 2026

متعلقہ خبریں

یہ بھی دیکھیں

مفت علاج کی روشن امید — مفتی منیب کے ہاتھوں یونیورسٹی میڈیکل کمپلیکس کا سنگِ بنیاد، سالانہ دو لاکھ مستحق مریض بلا معاوضہ مستفید ہوں گے

کراچی: شہرِ قائد میں فلاحی صحتِ عامہ کے فروغ کی جانب ایک تاریخی پیش رفت کے طور پر معروف مذہبی اسکالر مفتی منیب الرحمٰن نے گلستانِ جوہر، یونیورسٹی روڈ کے قریب جدید فلاحی اسپتال کے منصوبے یونیورسٹی میڈیکل کمپلیکس (UMC) کا سنگِ بنیاد رکھ دیا۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد ہر سال دو لاکھ سے زائد نادار اور مستحق مریضوں کو بلا معاوضہ طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ یونیورسٹی میڈیکل کمپلیکس اقوامِ متحدہ سے منظور شدہ فلاحی ادارے امامیہ میڈکس انٹرنیشنل (IMI) کے تحت قائم کیا جا رہا ہے، جس میں شمالی امریکا میں مقیم پاکستانی نژاد ماہرینِ طب نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ ادارہ پاکستان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں انسانی خدمت اور فلاحی طبی سرگرمیوں کا طویل تجربہ رکھتا ہے۔

سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمٰن نے اس منصوبے کو انسانیت کے لیے امید کی کرن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی میڈیکل کمپلیکس بلا تفریق رنگ، نسل اور مسلک انسانیت کی خدمت کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ محروم اور کمزور طبقات کو معیاری علاج فراہم کرنا اسلامی تعلیمات اور حضور نبی کریم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کا عملی مظہر ہے مفتی منیبؒ نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ صحت اور تعلیم جیسے بنیادی شعبے بتدریج تجارتی رنگ اختیار کرتے جا رہے ہیں، جس کے باعث غریب اور متوسط طبقہ معیاری سہولیات سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے امامیہ میڈکس انٹرنیشنل کو سراہتے ہوئے کہا کہ یو ایم سی کو مکمل طور پر غیر منافع بخش فلاحی اسپتال کے طور پر قائم کرنے کا فیصلہ قابلِ تحسین ہے۔

اسی موقع پر منعقدہ فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے سابق نگران وزیراعلیٰ جسٹس (ر) مقبول باقر نے یونیورسٹی میڈیکل کمپلیکس کو کراچی میں صحت کے بگڑتے ہوئے نظام کے تناظر میں ایک بروقت اور ناگزیر منصوبہ قرار دیا۔ انہوں نے مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ دل کھول کر اس منصوبے کی معاونت کریں تاکہ مستحق خاندانوں کو حقیقی ریلیف میسر آ سکے، ساتھ ہی اس کے فلاحی تشخص کو ہر مرحلے پر برقرار رکھا جائے۔

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (DUHS) کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نازلی حسین نے منصوبے کے لیے جامع ادارہ جاتی تعاون کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یو ایم سی نہ صرف صحت بلکہ طبی تعلیم اور تحقیق کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے آئی ایم آئی کی عالمی سطح پر فلاحی خدمات کو سراہا۔ معروف مذہبی اسکالر مفتی فضل ہمدرد نے بھی مخیر حضرات پر زور دیا کہ وہ یونیورسٹی میڈیکل کمپلیکس کی جلد تکمیل کے لیے بڑھ چڑھ کر تعاون کریں، کیونکہ مصیبت زدہ انسانیت کی خدمت اسلام کا بنیادی تقاضا ہے۔

آئی ایم آئی کے بانی ڈاکٹر وجیہہ رضوی نے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یونیورسٹی میڈیکل کمپلیکس کو ایک ہمہ گیر اور کثیر التخصص طبی ادارے کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، جہاں ایمرجنسی و ٹراما کیئر، خواتین و بچوں کی صحت، اور متعدی و غیر متعدی امراض کا جدید علاج فراہم کیا جائے گا۔ مستقبل میں یہ ادارہ طبی تعلیم اور تحقیق کا مرکز بھی بنے گا۔ ڈاکٹر رضوی کے مطابق کراچی جیسے گنجان آباد شہر میں معیاری طبی سہولیات کی شدید قلت ہے، اور یو ایم سی خاص طور پر کم اور متوسط آمدنی والے خاندانوں کے لیے نجی علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد دے گا۔ انہوں نے بتایا کہ یو ایم سی کا تصور آئی ایم آئی کے زیرِ انتظام ملک بھر میں قائم 25 فلاحی کلینکس کے تجربے سے سامنے آیا، جہاں اس وقت سالانہ ڈیڑھ لاکھ کے قریب مریضوں کو مفت علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ امامیہ میڈکس انٹرنیشنل نے 2005 کے تباہ کن زلزلے، حالیہ سیلابوں اور ہیٹی کے زلزلے سمیت متعدد عالمی انسانی بحرانوں میں صفِ اول میں رہ کر طبی امداد فراہم کی، جو ادارے کی خدمات کا روشن باب ہے۔ فنڈ ریزنگ سیشن کی میزبانی معروف اداکار خالد انعم نے کی، جس دوران مخیر حضرات کی جانب سے یونیورسٹی میڈیکل کمپلیکس کے لیے 16 کروڑ روپے سے زائد کے عطیات کا اعلان کیا گیا۔ معروف سماجی شخصیت نادرا پنجوانی نے بھی منصوبے کے لیے 50 لاکھ روپے کی امداد دینے کا اعلان کیا۔ یونیورسٹی میڈیکل کمپلیکس کا آغاز قابلِ رسائی، باوقار اور فلاحی بنیادوں پر صحت کی سہولیات کی فراہمی کی جانب ایک مضبوط قدم ہے، جو انسانیت کی خدمت کے لیے پائیدار اور جامع طبی نظام کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔