جمعرات, فروری 5, 2026

متعلقہ خبریں

یہ بھی دیکھیں

ریسرچ اور جدید ٹیکنالوجی سے پاکستان میں مؤثر ہیلتھ کیئر نظام کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے، پروفیسر جہاں آرا حسن

کراچی : ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی پرو وائس چانسلر پروفیسر جہاں آرا حسن نے کہا ہے کہ صحت کے شعبے میں ریسرچ، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے ہیلتھ کیئر سسٹم میں نمایاں اور دیرپا بہتری لائی جا سکتی ہے۔

وہ اوجھا کیمپس میں منعقدہ صحت کے شعبے میں جدت، انٹرپرینیورشپ اور کاروباری مواقع کے عنوان سے ایک روزہ سمپوزیم سے خطاب کر رہی تھیں، جس کا اہتمام ڈاؤ یونیورسٹی کے آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (ORIC) نے اوپن (OOPEN) کے تعاون سے کیا۔

پروفیسر جہاں آرا حسن نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ہیلتھ ٹیکنالوجیز مریضوں کی نگہداشت، تشخیص اور طبی تحقیق کے معیار کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں، جبکہ جامعات کو انوویشن اور اسٹارٹ اپس کے فروغ کے لیے مرکزی کردار ادا کرنا ہوگا۔

سمپوزیم میں ڈاؤ یونیورسٹی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے 15 سے زائد ہیلتھ کیئر اسٹارٹ اپس نے اپنے آئیڈیاز پیش کیے، جنہیں شرکاء کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی۔ تقریب میں ملک و بیرونِ ملک سے تعلق رکھنے والے طبی ماہرین، ماہرینِ تعلیم اور کاروباری شخصیات سمیت 200 سے زائد افراد نے شرکت کی۔

پینل ڈسکشن میں ڈاکٹر عدیل احمد، ڈاکٹر بابر راؤ، ڈاکٹر بلال حمید، طارق خان اور ڈاکٹر ایرج الحق نے صحت کے شعبے میں انوویشن، بین الاقوامی اشتراک اور دانشورانہ املاک کی اہمیت پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔

تقریب کے اختتام پر مقررین کو یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ تحقیق اور انوویشن کے ذریعے پاکستان میں جدید ہیلتھ کیئر نظام کو فروغ دیا جاتا رہے گا