جمعرات, فروری 5, 2026

متعلقہ خبریں

یہ بھی دیکھیں

سیکریٹری صحت کے خلاف مواد کی تشہیر، جناح اسپتال کے ملازم کے خلاف کارروائی کا امکان

کراچی: جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (JPMC) کے ملازم امیر علی دیناری کی جانب سے صوبائی سیکریٹری صحت کے خلاف سینیٹ میں زیرِ بحث تحریکِ استحقاق سے متعلق مواد کو منظم انداز میں مختلف سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس میں شیئر کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے جس نے سرکاری حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

باخبر ذرائع کے مطابق ایک حاضر سروس سرکاری ملازم کی جانب سے اس نوعیت کی سرگرمی سول سرونٹس (کنڈکٹ) رولز 1964 کی صریح خلاف ورزی ہے، جسے سیاسی مداخلت، ادارہ جاتی بدنامی اور ذاتی مفادات کے حصول کے لیے چلائی جانے والی منظم مہم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کے انتظامی تنازعات کے حل میں اہم پیش رفت

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کوئی بھی سرکاری ملازم حکومت یا اعلیٰ افسران کے خلاف عوامی یا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جانبدارانہ، اشتعال انگیز یا سیاسی نوعیت کا مواد پھیلانے کا مجاز نہیں۔ ایسے اقدامات کو سنگین Misconduct تصور کیا جاتا ہے، جس پر شوکاز نوٹس، محکمانہ انکوائری، گریڈ میں تنزلی حتیٰ کہ ملازمت سے برطرفی تک کی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

ذرائع یہ بھی تصدیق کرتے ہیں کہ جس تنظیم “پیپلز پیرامیڈیکل اسٹاف” کے نام پر امیر علی دیناری خود کو انفارمیشن سیکریٹری ظاہر کر رہے ہیں، وہ تنظیم پیپلز پارٹی کراچی کے صدر نثار احمد کھوڑو کی جانب سے پہلے ہی تحلیل کی جا چکی ہے، جبکہ تاحال کسی نئی تنظیمی باڈی یا عہدیداران کا باضابطہ اعلان نہیں ہوا۔ اس کے باوجود تنظیم کے نام کا استعمال افسران پر دباؤ ڈالنے، اداروں کو نشانہ بنانے اور بلیک میلنگ جیسے ہتھکنڈوں کے لیے کیے جانے کو انتظامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق صوبائی سیکریٹری صحت کی جانب سے جناح اسپتال کے متعدد ملازمین کو قواعد و ضوابط کے مطابق ترقیاں دی گئیں، تاہم امیر علی دیناری چونکہ مقررہ اہلیت کے معیار پر پورا نہیں اترتے تھے، اس لیے انہیں ترقی نہیں مل سکی۔ اسی تناظر میں اس منفی مہم کے آغاز کو محض اتفاق نہیں سمجھا جا رہا۔

یہ بھی پڑھیں : جناح اسپتال کراچی میں 8 افسران کو اعلیٰ عہدوں پر ترقی، BPS-16 میں تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری

اسپتال کے ذمہ دار اور خیرخواہ ملازمین کا کہنا ہے کہ امیر علی دیناری جیسے عناصر جناح اسپتال کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، جو ذاتی مفادات کے لیے ملازمین کے اجتماعی مفادات کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایسے عناصر کی جانب سے اسپتال کے خلاف 90 سے زائد مقدمات دائر کیے جا چکے ہیں، جس کے باعث نہ صرف ملازمین کی ترقیاں اور نئی بھرتیاں تعطل کا شکار ہیں بلکہ مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ یہی گروہ حالیہ دنوں میں اسپتال میں تعینات ہونے والی نئی اکاؤنٹس آفیسر کو چارج سنبھالنے سے روکنے میں بھی ملوث پایا گیا۔

سینئر سرکاری افسران کے مطابق یہ معاملہ کسی ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ ریاستی نظم و ضبط اور سرکاری سروس ڈسپلن سے جڑا ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری ملازمین کو سوشل میڈیا کے ذریعے اداروں کے خلاف مہم چلانے کی اجازت دے دی گئی تو پورا نظام مفلوج ہو جائے گا۔ ذرائع کے مطابق تمام شواہد مرتب کیے جا رہے ہیں اور کسی بھی وقت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔