کراچی / حیدرآباد : سندھ میں نرسز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر سپورٹنگ عملے کی جانب سے غیرقانونی طبی عمل اور خفیہ کلینکس چلانے کے سنسنی خیز انکشافات نے محکمۂ صحت سندھ کو بیدار کر دیا ہے۔ وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے صوبے بھر کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران اور تمام میڈیکل سپرنٹنڈنٹس سے فوری طور پر تحریری رپورٹ طلب کر لی ہے۔
محکمۂ صحت سندھ کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق 3 دسمبر 2025 کو وزیرِ صحت کی زیرِ صدارت ہونے والے اہم اجلاس میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ نرسنگ، پیرا میڈیکل اور سپورٹنگ اسٹاف شہروں کی کچی آبادیوں اور دیہی علاقوں میں غیرقانونی کلینک چلا رہے ہیں، جو نہ صرف قواعد کی خلاف ورزی ہے بلکہ عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ بھی ہے۔

اس سلسلے میں ہدایات جاری کی گئیں جن کے مطابق تمام ڈی ایچ اوز اور ایم ایسز اپنے اضلاع میں موجود عملے کی سخت نگرانی کریں، ایک سرٹیفکیٹ جمع کرائیں کہ ان کے ماتحت کوئی بھی ملازم غیرقانونی طبی عمل میں ملوث نہیں اور مکمل رپورٹ 15 روز کے اندر ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز سندھ، حیدرآباد کو ارسال کی جائے
ڈی جی ہیلتھ سندھ نے واضح کیا کہ ’’معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جائے، ثبوت ملنے پر سخت تادیبی کارروائی ہوگی‘‘۔ مراسلے کی نقول سیکریٹری صحت سندھ، سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے سی ای او، اور وزیرِ صحت کے پرنسپل سیکریٹری کو بھی بھیج دی گئی ہیں تاکہ معاملے کی اعلیٰ سطح پر مانیٹرنگ یقینی بنائی جا سکے۔


