حیدرآباد : سندھ ہائی کورٹ سرکٹ کورٹ حیدرآباد نے آئینی درخواست سی پی نمبر 2133/2025 میں صوبہ سندھ کے چیف سیکریٹری، سیکریٹری صحت، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز سندھ اور ڈاکٹر سید ارشاد حسین کاظمی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے لیاقت یونیورسٹی اسپتال حیدرآباد/جامشورو کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) کی حیثیت سے ڈاکٹر کاظمی کی تقرری پر جواب طلب کرلیا ہے۔
یہ آئینی درخواست شہری شہزائب سہیل کی جانب سے بیرسٹر ارسلان راجہ کے ذریعے دائر کی گئی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر کاظمی کو 13 نومبر 2025 کو ایم ایس تعینات کیا گیا، حالانکہ ان کا میڈیکل لائسنس (رجسٹریشن نمبر 23554-S) پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) نے 21 نومبر 2022 کے تادیبی حکم نامے کے تحت پانچ سال کے لیے معطل کر رکھا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر کاظمی پر ایک میڈیکو لیگل کیس میں غلط اور گمراہ کن پوسٹ مارٹم رپورٹ تیار کرنے کے الزام میں کارروائی ہوئی تھی۔ درخواست گزار کے وکیل کے مطابق ڈاکٹر کاظمی نے میڈیکل ٹریبونل اسلام آباد میں اپیل تو دائر کی ہے، مگر انہیں نہ کوئی اسٹے ملا ہے اور نہ ہی کوئی عبوری ریلیف، جس کے باعث پی ایم ڈی سی کا معطلی کا حکم اب بھی نافذ العمل ہے۔
درخواست میں پی ایم ڈی سی ایکٹ 2023 کی دفعات 38، 42 اور 44 کے تحت مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جس شخص کا میڈیکل لائسنس معطل ہو وہ نہ صرف طب کا پیشہ اختیار نہیں کر سکتا بلکہ کسی طبی یا متعلقہ انتظامی عہدے پر بھی تعینات نہیں ہو سکتا۔ معطلی کے دوران ڈاکٹر کا نام عملاً میڈیکل رجسٹر سے خارج تصور ہوتا ہے، جس بنا پر ڈاکٹر کاظمی کی تقرری “غیر قانونی، بے اختیار اور خلافِ قانون” قرار دی گئی ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ایم ایس کا عہدہ فعال میڈیکل لائسنس کا تقاضا کرتا ہے کیونکہ اس عہدے میں طبی نگرانی، میڈیکل اسٹاف کی سربراہی، میڈیکو لیگل معاملات کا انتظام اور قواعد و ضوابط کی پابندی یقینی بنانی ہوتی ہے۔ مزید برآں، سندھ سول سرونٹس ایکٹ 1973 کی دفعہ 15 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اخلاقی بدعنوانی (moral turpitude) کے تحت سزا یافتہ شخص کو کسی سرکاری عہدے پر تعینات نہیں کیا جا سکتا، جبکہ پی ایم ڈی سی کی تادیبی کارروائی اسی زمرے میں آتی ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ڈاکٹر کاظمی کی تقرری کو غیر قانونی، کالعدم اور بلاجواز قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جائے اور پی ایم ڈی سی کے حکم نامے پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔ سندھ ہائی کورٹ سرکٹ کورٹ حیدرآباد نے سی پی نمبر 2133/2025 کی ابتدائی سماعت کے بعد تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تفصیلی جواب طلب کرلیا ہے


