پیر, مارچ 23, 2026

متعلقہ خبریں

یہ بھی دیکھیں

ڈاؤ یونیورسٹی میں جعلی ڈگریوں پر بھرتیوں کا اسکینڈل، دس ڈگریاں جعلی ثابت، ہزاروں ملازمین کی ڈگریوں کی تصدیق باقی

کراچی : سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے ایک اہم اجلاس میں ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں جعلی ڈگریوں پر بھرتیوں کا سنگین اسکینڈل مکمل طور پر بے نقاب ہوگیا، جس نے یونیورسٹی کے انتظامی ڈھانچے، بھرتی کے عمل اور اندرونی نگرانی کے نظام پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

اجلاس کی صدارت چیئرمین نثار کھوڑو نے کی، جبکہ اراکین قاسم سومرو اور طٰحہ احمد بھی شریک تھے۔ کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی آڈٹ رپورٹس میں انکشاف ہوا کہ ڈاؤ یونیورسٹی میں اس وقت 3,500 سے زائد ملازمین کام کر رہے ہیں، لیکن ان میں سے صرف 450 ملازمین کی تعلیمی ڈگریاں تصدیق شدہ ہیں، جبکہ ہزاروں ملازمین کی اسناد کی ویریفکیشن تاحال نامکمل ہے، جو انتظامی غفلت اور سنگین بے ضابطگیوں کا واضح ثبوت ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ یونیورسٹی کے ڈائریکٹر فنانس کے مطابق یونیورسٹی میں مجموعی ملازمین کی بڑی تعداد کانٹریکٹ پر کام کر رہی ہے، جن میں 2,500 ملازمین شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جولائی 2021 سے جون 2025 تک ڈاؤ یونیورسٹی میں مختلف بنیادوں پر 3,023 ملازمین بھرتی کیے گئے، جن میں سے صرف 54 ملازمین مستقل بنیادوں پر تعینات ہوئے، جبکہ باقی کانٹریکٹ، ڈیلی ویجز اور دیگر بنیادوں پر رکھے گئے۔پی اے سی نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ جب ادارے کی تنخواہوں پر سالانہ 2 ارب 33 کروڑ روپے خرچ ہو رہے ہوں تو اتنی بڑی تعداد میں غیر تصدیق شدہ ملازمین کا موجود ہونا کسی صورت قابل قبول نہیں۔

ڈگری ویریفکیشن کا عمل ڈاؤ یونیورسٹی نے آؤٹ سورس کرکے ایچ آر ایس جی کمپنی کے سپرد کیا تھا، جس کے دوران 10 ملازمین کی ڈگریاں جعلی ثابت ہوئیں۔ ان ملازمین میں سید فرخ حسین جو 2015 میں بی کام کی جعلی ڈگری پر ریگولر بنیادوں پر بطور ریسپشنسٹ بھرتی ہوئے۔ سید کاشف حسین 2019 میں بی کام کی جعلی ڈگری پر کانٹریکٹ بنیادوں پر ریسپشنسٹ تعینات کیے گئے۔ نبیل احمد نے 2024 میں بی کام کی جعلی ڈگری پر کانٹریکٹ بنیادوں پر بطور ریسپشنسٹ ملازمت حاصل کی۔ محمد اویس 2015 میں جعلی بی ایس کمپیوٹر سائنس ڈگری پر ریگولر بنیادوں پر سینئر ڈیٹا پروسیسنگ افسر بھرتی ہوئے۔

مرزا عاطف بیگ 2008 میں بی کام کی جعلی ڈگری پر ریگولر بنیادوں پر سینئر کمپیوٹر آپریٹر تعینات ہوئے۔ محمد فہد نے بھی 2015 میں بی کام کی جعلی ڈگری پر ریگولر بنیادوں پر سینئر کمپیوٹر آپریٹر کی حیثیت سے بھرتی حاصل کی۔ فیضان علی 2015 میں جعلی بی کام ڈگری پر ریگولر بنیادوں پر ایڈمنسٹریٹو اسسٹنٹ مقرر ہوئے۔ عبدالناصر 1988 میں جعلی بی کام ڈگری پر ریگولر بنیادوں پر ایڈمنسٹریٹو افسر کے طور پر بھرتی کیے گئے۔ بدر مجاہد 2021 میں بی اے کی جعلی ڈگری پر کانٹریکٹ پر بطور اسسٹنٹ رکھے گئے، جبکہ ریاض احمد 2024 میں ایم کام کی جعلی ڈگری پر کانٹریکٹ بنیادوں پر بلنگ افسر بھرتی کیے گئے۔

ڈاؤ یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر نازلی حسین کے مطابق جعلی ڈگری رکھنے والے 10 میں سے 8 ملازمین کو ملازمت سے فارغ کر دیا گیا ہے، جبکہ باقی دو ملازمین کو فائنل شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے اور انہیں بھی جلد برطرف کر دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈگریوں کی تصدیق کا عمل تیز رفتاری سے جاری ہے اور مستقبل میں بغیر تصدیق کوئی بھرتی نہیں کی جائے گی۔

پی اے سی نے جعلی بھرتیوں پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈگریوں کی تصدیق کے بغیر بھرتیاں نہ صرف مالی بے ضابطگیوں کو جنم دیتی ہیں بلکہ سرکاری اداروں کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔ کمیٹی نے سندھ بھر کی تمام سرکاری جامعات کو حکم دیا کہ تین ماہ کے اندر اندر اپنے تمام ملازمین و افسران کی تعلیمی اسناد کی ایچ ای سی سے تصدیق کروائیں، تاکہ جعلی بھرتیوں، جعلی تنخواہوں اور محکمانہ بدعنوانیوں کی روک تھام کی جا سکے۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ سرکاری وسائل کا ضیاع کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور مستقبل میں ڈگری ویریفکیشن کے عمل میں تاخیر یا غفلت پر سخت کارروائی کی جائے گی۔