پنجاب میں ٹائیفائڈ سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکوں کی مہم کا دوسرا مرحلہ پیر چودہ جون سے شروع ہو رہا ہے۔
اس مہم کا انعقاد پنجاب کے 24 اضلاع کے شہری علاقوں میں کیا جا رہا ہے۔ ان اضلاع میں اٹک، جہلم، سرگودھا،خوشاب،بکھر،گجرات، حافظ اباد،ناروال،سیالکوٹ، شیخوپورہ،ننکانہ، قصور،اوکاڑہ،ساہیوال،چینیوٹ،ٹو بہ ٹیک سنگھ،جھنگ،خانیوال،وہاڑی،لودھراں،مظفرگڑھ، بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یارخان شامل ہیں۔
اس حوالے سے وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ یہ مہم 14جون سے 26 جون تک جاری رہے گی اور اس مہم میں9 ماہ سے 15 سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں گے۔ اس مہم میں 24 اضلاع کی 479 شہری یونینکونسلز شامل ہیں۔اور اس میں 66لاکھ، 63 ہزار4سو 59 بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں گے۔
وزیر صحت نے مزید کہا کہ پہلے مرحلہ میں بارہ اضلاع میں ایک کروڑ بائیس لاکھ سے زائد بچوں کو ٹائیفائڈ سے بچاؤ کے ٹیکہ جاتلگائے گئے تھے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ اپنے بچوں کو ٹائیفائڈ سے بچاؤ کے ٹیکہ جات ضرور لگوائیں۔
ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ ٹیموں کے نہ پہنچنے یا دیگر معلومات کے لئے شہری 1033 پر رابطہ کر سکتے ہیں
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن پنجاب کی صوبائی مجلس عاملہ کا اجلاس پی ایم اے ہاوس لاہور میں منعقد ہوا ۔ جس کی صدارتپروفیسر ڈاکٹر محمد تنویر انور نے کی۔ اجلاس میں صوبہ بھر سے کثیر تعداد ڈاکٹرز نے شرکت کی۔
اجلاس میں متفقہ قرارداد کے ذریعے پاکستان میڈیکل کمیشن کو یکسر مسترد کر دیا گیا۔ پی ایم سی نے این ایل ای کے حوالے سےامتحانات کا اعلان کر کے ڈاکٹروں کے مستقبل کو تاریک کر دیا ہے۔ پی ایم اے پنجاب نے این ایل ای جسے کالا قانون کا بائیکاٹ کر دیاہے۔
اس حوالے سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ 16 جون بروز بدھ تمام تنظیمیں پریس کلب کے سامنے احتجاج کریں گی اور بعد از احتجاج پریسکانفرنس کے ذریعے اس کالے قانون کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا کہ اس قانون کو موجودہ طالب علموں پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔
ہیلتھ کیر کمشن کے معاملات جب تک پی ایم اے پنجاب سے طے نہیں ہو جاتے اس وقت تک پی ایم اے پنجاب ہیلتھ کیر کمیشن سےکسی قسم کا کوئی تعاون نہیں کریں گی۔
ڈی سی او شیخوپورہ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے سی ای او شیخوپورہ کو ہیلتھ ڈپارٹمنٹ بھیج دیا جو کہ سراسر زیادتیہے اس واقعہ کی پی ایم اے پنجاب بھرپور مذمت کرتی ہیں اور پی ایم اے پنجاب صوبائی وزیر صحت اور چیف سیکریٹری پنجاب سےمطالبہ کرتی ہے کہ ڈی سی اور کو فی الفور معطل کیا جائے اور معطل سی ای او کو دربار شیخوپورہ تعینات کیا جائے ۔