پیر, مارچ 30, 2026

متعلقہ خبریں

یہ بھی دیکھیں

محکمہ صحت سندھ میں بڑی اکھاڑ پچھاڑ، “نئے سسٹم” پر بحث تیز، سابق و موجودہ ادوار کا تقابلی جائزہ

کراچی (خصوصی تجزیاتی رپورٹ) سندھ میں نئے سیکرٹری صحت کی تعیناتی کے بعد محکمہ صحت میں وسیع پیمانے پر تبادلوں اور تقرریوں کا سلسلہ جاری ہے، جس نے انتظامی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اہم عہدوں پر نئی تعیناتیاں، چیف ڈرگ انسپکٹر سمیت کلیدی پوسٹوں پر تبدیلیاں، میڈیکل سپرنٹنڈنٹس اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز (ڈی ایچ اوز) کی اکھاڑ پچھاڑ، جبکہ سیکرٹریٹ سطح پر سیکشن افسران کی تبدیلی نے ایک “نئے سسٹم” کی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا یہ تبدیلیاں مثبت نتائج دیں گی یا نہیں، اصل صورتحال آنے والے مہینوں میں واضح ہوگی۔

دوسری جانب سابق سیکرٹری صحت ریحان اقبال بلوچ کے دور کا بھی تقابلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سرکاری و غیر سرکاری حلقوں کے مطابق ریحان اقبال بلوچ کو ایک مضبوط اور کسی حد تک مطلق العنان (autocratic)منتظم سمجھا جاتا تھا، جنہوں نے فیصلوں میں ذاتی صوابدید کو اہمیت دی اور افسران کی تعیناتیاں اپنی رائے کے مطابق کیں، وہ کسی کی رائے کو خاطر خواہ اہمیت نہیں دیتے تھے۔ ان کے حوالے سے عمومی تاثر یہی رہا کہ انہوں نے ذاتی طور پر کبھی رشوت طلب نہیں کی اور نہ ہی تعیناتیوں کو مالی مفادات سے مشروط کیا، بلکہ سفارش کو بھی خاطر میں نہیں لایا۔

تاہم ناقدین کے مطابق ان کے دور کی سب سے بڑی کمزوری مؤثر نگرانی (چیک اینڈ بیلنس) کا فقدان تھا۔ ریحان اقبال بلوچ کا مؤقف تھا کہ کسی بھی افسر کو بہتر کارکردگی کے لیے طویل عرصہ ایک ہی پوسٹ پر تعینات رہنا چاہیے، اور اسی پالیسی کے تحت متعدد افسران کو اہم عہدوں پر برقرار رکھا گیا۔ اگرچہ یہ پالیسی انتظامی استحکام کے لحاظ سے مثبت سمجھی گئی، لیکن مؤثر نگرانی نہ ہونے کے باعث متعدد اسپتالوں، ڈی ایچ او دفاتر، صحت پروگرامز اور سیکرٹریٹ میں تعینات افسران پر بدعنوانی، وسائل کے غلط استعمال اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آتے رہے۔

ذرائع کے مطابق بجٹ کے استعمال، ادویات کی فراہمی، مریضوں کی خوراک (ڈائٹ) اور مجموعی سروس ڈیلیوری کے معاملات پر مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی، جبکہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹس، ڈی ایچ اوز اور پروگرام ڈائریکٹرز سمیت بعض افسران پر بجٹ میں بے ضابطگیوں کے الزامات بھی عائد ہوتے رہے لیکن انہوں نے کسی کے خلاف کاروائی نہیں کی۔ ان کے دور میں محکمہ صحت کا احتسابی نظام عملاً مفلوج ہوگیا جبکہ دوران ہنگامی دوروں اور زمینی حقائق کی جانچ کا فقدان بھی محسوس کیا گیا، جس کے باعث کئی انتظامی کمزوریاں جوں کی توں برقرار رہیں۔ ان کے دور میں تعینات کیے گئے متعدد افسران کو اب ان کے تبادلے کے بعد عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔

موجودہ صورتحال میں نئے سیکرٹری صحت طاہر حسین سانگی کی جانب سے تیزی سے تبدیلیاں کی جا رہی ہیں، تاہم ان اقدامات کے اثرات کے حوالے سے آراء منقسم ہیں۔ بعض حلقے ان تبدیلیوں کو بہتری کی کوشش قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ آیا نئی تعیناتیاں کسی دباؤ یا مالی اثر و رسوخ کے تحت ہو رہی ہیں یا واقعی نظام کو بہتر بنانے کی سنجیدہ کوشش ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینے اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا یہ “نیا سسٹم” حقیقی اصلاحات کی شکل اختیار کرتا ہے یا ماضی کی کمزوریوں کو کسی نئے انداز میں دہراتا ہے۔ شفافیت، میرٹ اور مؤثر نگرانی ہی وہ بنیادی عوامل ہیں جو اس بحث کو حتمی رخ دے سکتے ہیں۔