کوئٹہ: بلوچستان میں بچوں کے حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج میں نمایاں اور تاریخی بہتری سامنے آئی ہے، صوبے میں مکمل ویکسینیشن کورس حاصل کرنے والے بچوں کی شرح 38 فیصد سے بڑھ کر 56.6 فیصد ہوگئی ہے، جبکہ ایسے بچوں کی تعداد میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جنہیں پیدائش سے اب تک کوئی حفاظتی ٹیکہ نہیں لگ سکا۔
آغا خان یونیورسٹی پاکستان کے زیرِ نگرانی کیے گئے غیر جانب دار تھرڈ پارٹی ویریفیکیشن سروے (TPVICS) راؤنڈ 3، 2026 کے نتائج کے مطابق بلوچستان میں زیرو ڈوز بچوں کی شرح میں 20.3 فیصد پوائنٹس کی کمی ہوئی ہے، جو صوبے میں روٹین امیونائزیشن کی بہتری اور ویکسین سے محروم بچوں تک رسائی کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دی جارہی ہے۔
ملک گیر سطح پر کیے گئے اس سروے میں بچوں کی ویکسینیشن کوریج اور حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ سروے میں اپریل 2024 سے مئی 2025 کے دوران پیدا ہونے والے 12 سے 23 ماہ کی عمر کے بچوں کو شامل کیا گیا، جبکہ فیلڈ ڈیٹا اکٹھا کرنے کا عمل 3 اپریل سے 30 مئی 2026 تک جاری رہا۔
سروے کے نتائج میں بلوچستان کی ویکسینیشن کوریج میں ہونے والی بہتری کو خصوصی اہمیت حاصل ہے، کیونکہ وسیع رقبے، دشوار گزار جغرافیے، دور دراز علاقوں اور بکھری ہوئی آبادی کے باعث صوبے میں بچوں تک معمول کی حفاظتی ٹیکہ جات کی خدمات پہنچانا ایک بڑا صحتِ عامہ کا چیلنج ہے۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ سروے میں شامل بچوں کی پیدائش کے عرصے کے دوران ڈاکٹر کمالان گچکی صوبائی پروگرام برائے توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات (EPI) بلوچستان کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔
ان کے دورِ قیادت میں روٹین امیونائزیشن کو مؤثر بنانے، ویکسین سے محروم اور زیرو ڈوز بچوں کی نشاندہی، مشکل رسائی والے علاقوں تک ویکسینیشن سروسز کی رسائی بہتر بنانے، فیلڈ مانیٹرنگ کو مضبوط کرنے اور دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال پر خصوصی توجہ دی گئی۔
ذرائع کے مطابق حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج میں یہ بہتری کسی ایک اقدام کا نتیجہ نہیں بلکہ مؤثر قیادت، بہتر حکمتِ عملی، مسلسل فیلڈ مانیٹرنگ اور مربوط ٹیم ورک کا مجموعی نتیجہ ہے۔ صوبائی EPI پروگرام کی جانب سے ڈونر ایجنسیوں اور ایمرجنسی آپریشن سینٹر (EOC) کے ساتھ بہتر کوآرڈینیشن، ضلعی EPI ٹیموں کے ساتھ مسلسل رابطہ اور فیلڈ سطح پر خامیوں کی بروقت نشاندہی اور ان کے ازالے نے پروگرام کی کارکردگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
خصوصاً زیرو ڈوز بچوں کی تلاش اور ان تک رسائی، مشکل جغرافیائی علاقوں میں ویکسینیشن سروسز کی فراہمی، ضلعی ٹیموں کی کارکردگی کی نگرانی اور مختلف شراکت دار اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کو پروگرام کی کامیابی کے اہم عوامل قرار دیا جارہا ہے۔
ماہرین کے مطابق بلوچستان جیسے صوبے میں، جہاں آبادی دور دراز اور جغرافیائی طور پر بکھری ہوئی ہے، مکمل ویکسینیشن کوریج کا 38 فیصد سے بڑھ کر 56.6 فیصد تک پہنچنا ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس کے ساتھ زیرو ڈوز بچوں کی شرح میں 20.3 فیصد پوائنٹس کی کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ویکسینیشن پروگرام ان بچوں تک بھی رسائی بہتر بنانے میں کامیاب ہوا ہے جو روایتی حفاظتی ٹیکہ جات کی خدمات سے محروم رہ جاتے تھے۔
بلوچستان میں سامنے آنے والے تازہ اعداد و شمار اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مؤثر منصوبہ بندی، مضبوط فیلڈ مانیٹرنگ اور مربوط ٹیم ورک کے ذریعے محدود وسائل اور دشوار گزار حالات کے باوجود بچوں کو قابلِ انسداد بیماریوں سے تحفظ فراہم کرنے میں نمایاں پیش رفت ممکن ہے۔

