جمعہ, اگست 14, 2026

متعلقہ خبریں

یہ بھی دیکھیں

ڈاکٹر نگہت شاہ کی دوبارہ تعیناتی پر 6 فیکلٹی ممبران کا احتجاج، چیف آف آرمی اسٹاف سمیت اعلیٰ حکام کو خط

کراچی: جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی (جے ایس ایم یو) کے شعبۂ امراضِ نسواں کے 6 فیکلٹی ممبران نے پروفیسر ڈاکٹر نگہت شاہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد مزید 3 سال کے لیے دوبارہ تقرری پر باضابطہ احتجاج کرتے ہوئے معاملہ اعلیٰ حکام کے سامنے اٹھا دیا، فیکلٹی ممبران نے سندھ کابینہ کے فیصلے پر نظرثانی اور ترقی کے منتظر اہل اساتذہ کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔

ہیلتھ ٹائمز کو موصول ہونے والے 11 اگست 2026 کے تحریری خط میں جے ایس ایم یو کے شعبۂ امراضِ نسواں، وارڈ 8، جے پی ایم سی سے وابستہ 6 فیکلٹی ممبران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ڈاکٹر نگہت شاہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ تعیناتی سے ادارے میں ترقی کے منتظر اہل فیکلٹی ممبران کی کیریئر پروگریشن متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

خط پر ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر شازیہ نصیب، ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر میمونہ رحمان، اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شفق اسماعیل، اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر اومیمہ اختر، اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مبروخ حیدر اور سینئر رجسٹرار ڈاکٹر سائرہ شیخ کے دستخط موجود ہیں۔

فیکلٹی ممبران نے خط کی نقول چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیراعلیٰ سندھ، صوبائی محتسب سندھ، وزیر صحت سندھ، وزیر جامعات و بورڈز سندھ اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کو بھی ارسال کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ڈاکٹر نگہت شاہ کو ریٹائرمنٹ کے بعد توسیع دینے کی تیاری، اہل فیکلٹی کی ترقی خطرے میں پڑ گئی

خط میں کہا گیا ہے کہ جے ایس ایم یو کے وائس چانسلر کو یونیورسٹیز اینڈ بورڈز ڈپارٹمنٹ کی جانب سے ڈاکٹر نگہت شاہ کے معاملے میں سندھ کابینہ کے فیصلے پر عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے، تاہم ادارے میں پہلے ہی متعدد ایسوسی ایٹ پروفیسرز اور دیگر فیکلٹی ممبران مقررہ سنیارٹی اور اہلیت کے معیار کے تحت ترقی کے منتظر ہیں۔

فیکلٹی ممبران نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PM&DC) کے 19 مئی 2026 کے نوٹیفکیشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریٹائرڈ فیکلٹی کو کنٹریکٹ بنیادوں پر رکھنے کی اجازت اپنی جگہ موجود ہے، تاہم ایسی تقرری سے جونیئر فیکلٹی کی ترقی اور کیریئر پروگریشن متاثر نہیں ہونی چاہیے۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کی توسیع عموماً غیر معمولی حالات میں دی جاتی ہے اور اس وقت زیر غور عہدے کے لیے موزوں اور اہل امیدوار کی دستیابی کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ فیکلٹی ممبران نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر ڈاکٹر نگہت شاہ کی دوبارہ تعیناتی کا فیصلہ اسی طرح نافذ کیا گیا تو اس سے اہل فیکلٹی ممبران کی کیریئر پروگریشن، میرٹ، سنیارٹی اور مقررہ ترقیاتی معیار متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ اس صورتحال سے فیکلٹی کے مورال اور ادارے کی انتظامی کارکردگی پر بھی منفی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ہیلتھ ٹائمز کی خبر درست ثابت، ڈاکٹر نگہت شاہ کو ریٹائرمنٹ کے بعد 3 سال کی تقرری مل گئی

خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس کے نتیجے میں ادارے کے اندر انتظامی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں جو بالآخر تدریس، تحقیق اور مریضوں کی نگہداشت کے معیار کو متاثر کر سکتی ہیں۔ فیکلٹی ممبران نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ کابینہ کے فیصلے کے مضمرات کا وسیع تر عوامی مفاد میں جائزہ لیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ میرٹ، سنیارٹی اور مقررہ اہلیتی و ترقیاتی معیار پر مکمل عملدرآمد ہو۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ کے ترجمان پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ ڈاکٹر نگہت شاہ کو ریٹائرمنٹ کے بعد کنٹریکٹ کی بنیاد پر دوبارہ رکھا گیا ہے اور اس تعیناتی سے موجودہ افسران کی سنیارٹی یا پروموشن متاثر نہیں ہوگی۔ ترجمان کے مطابق ڈاکٹر نگہت شاہ کی کنٹریکٹ پر تعیناتی مروجہ پالیسی فریم ورک کے تحت کی گئی ہے۔

تاہم اب جے ایس ایم یو کے شعبۂ امراضِ نسواں کے فیکلٹی ممبران کی جانب سے تحریری طور پر معاملہ چیف آف آرمی اسٹاف، وزیراعلیٰ سندھ، صوبائی محتسب، وزیر صحت، وزیر جامعات و بورڈز اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر جے پی ایم سی تک پہنچائے جانے کے بعد ڈاکٹر نگہت شاہ کی دوبارہ تعیناتی کا معاملہ مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

واضح رہے کہ ہیلتھ ٹائمز نے اپنی گزشتہ رپورٹ میں نشاندہی کی تھی کہ ڈاکٹر نگہت شاہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد ممکنہ سروس جاری رکھنے سے ترقی کے منتظر فیکلٹی ممبران متاثر ہوسکتے ہیں۔ اب ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی تین سالہ کنٹریکٹ تعیناتی کی منظوری اور اس کے خلاف فیکلٹی کی جانب سے اعلیٰ حکام کو تحریری احتجاج نے اس معاملے کو ایک نئے مرحلے میں داخل کردیا ہے۔

ہیلتھ ٹائمز کو موصول ہونے والا 11 اگست کا خط اس معاملے میں پہلی مرتبہ سامنے آنے والی ایک اہم دستاویزی پیش رفت ہے، جس میں متاثرہ فیکلٹی نے اپنے اعتراضات اور ممکنہ انتظامی و تعلیمی اثرات باقاعدہ تحریری طور پر متعلقہ حکام کے سامنے رکھ دیے ہیں۔