جمعہ, مارچ 27, 2026

متعلقہ خبریں

یہ بھی دیکھیں

ٹی بی کے خلاف جنگ تیز، اوجھا انسٹیٹیوٹ کو عالمی اعزاز ملنے کے قریب

کراچی : ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی وائس...

جناح اسپتال میں ‘بچت’ کے نام پر مریضوں کی خوراک قربان، ڈپٹی ڈائریکٹر عدیل سموں نے مٹن بند کر دیا

کراچی : صوبے کے سب سے بڑے سرکاری طبی اداروں میں شمار ہونے والے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں انتظامیہ کی جانب سے مبینہ طور پر کفایت شعاری کے نام پر مریضوں کی بنیادی غذائی سہولیات میں کٹوتی کا انکشاف ہوا ہے، جہاں مریضوں کی ڈائیٹ سے مٹن کو اچانک ختم کر دیا گیا۔ اس فیصلے نے نہ صرف مریضوں اور ان کے تیمارداروں میں تشویش پیدا کر دی ہے بلکہ محکمہ صحت کی ترجیحات پر بھی سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق جناح اسپتال میں گزشتہ کئی دہائیوں سے زیر علاج مریضوں کو متوازن غذا فراہم کرنے کے لیے ڈائیٹ پلان میں باقاعدگی سے مٹن شامل کیا جاتا رہا ہے، جسے پروٹین کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر کمزور اور سرجری کے بعد صحتیاب ہونے والے مریضوں کے لیے۔ اسپتال کے طے شدہ ڈائیٹ شیڈول کے مطابق ہفتے میں چار دن رات کے کھانے میں مٹن فراہم کیا جانا معمول کا حصہ تھا۔

تاہم، حالیہ دنوں میں اس روایت کو اچانک ختم کرتے ہوئے مٹن کو ڈائیٹ پلان سے نکال دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز باقاعدہ ڈائیٹ پلان میں مٹن شامل تھا، لیکن اس کے برعکس مریضوں کو دال اور چکن فراہم کیا گیا، جس پر کئی مریضوں اور تیمارداروں نے شدید احتجاج کیا۔

اسپتال کچن ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر عدیل سموں کی ہدایات پر مٹن تیار نہیں کیا گیا اور اس کے بجائے کم لاگت والے متبادل کھانے فراہم کیے گئے۔ ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس فیصلے کے ذریعے بچائی جانے والی رقم کے استعمال پر سوالات موجود ہیں اور مبینہ طور پر اس کا حصہ اعلیٰ سطح تک پہنچائے جانے کی باتیں بھی سامنے آ رہی ہیں، تاہم اس حوالے سے متعلقہ حکام کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آ سکا۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں پہلے ہی سہولیات کی کمی کا سامنا ہے، ایسے میں مریضوں کی خوراک میں کمی یا غیر معیاری تبدیلیاں ان کی صحتیابی کے عمل کو متاثر کر سکتی ہیں۔ خاص طور پر وہ مریض جو غذائی کمی کا شکار ہوتے ہیں، ان کے لیے معیاری پروٹین کا حصول انتہائی ضروری ہوتا ہے۔

دوسری جانب مریضوں کے تیمارداروں نے اس اقدام کو “غیر انسانی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ایک طرف صحت کے شعبے میں بہتری کے دعوے کرتی ہے، جبکہ دوسری جانب مریضوں کی بنیادی ضروریات تک کم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔

صحت کے شعبے سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر واقعی بجٹ کے مسائل ہیں تو اس کا بوجھ مریضوں پر ڈالنا کسی طور قابل قبول نہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ اور وزیر صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور جناح اسپتال میں مریضوں کو معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنائیں۔