کراچی : ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی وائس چانسلر پروفیسر نازلی حسین نے کہا ہے کہ تپ دق (ٹی بی) پاکستان سمیت دنیا بھر میں صحتِ عامہ کا ایک سنگین مسئلہ ہے، جس کے خاتمے کے لیے عالمی ادارہ صحت نے 2035 تک کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے مربوط اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں اور اس سلسلے میں عملی تیاری جاری ہے۔ وہ اوجھا انسٹیٹیوٹ آف چیسٹ ڈیزیز کے زیر اہتمام “ورلڈ ٹی بی ڈے” کے موقع پر منعقدہ آگاہی واک سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہی تھیں۔
پروفیسر نازلی حسین نے کہا کہ اوجھا انسٹیٹیوٹ، حکومت سندھ کے تعاون سے ٹی بی کے علاج اور بحالی کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے اور یہ پاکستان کا سب سے بڑا ٹی بی ری ہیبلیٹیشن سینٹر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ادارہ جلد ہی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا “کولیبریٹو سینٹر فار ٹی بی” بننے جا رہا ہے، جو جنوبی ایشیا میں اپنی نوعیت کا پہلا مرکز ہوگا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ڈاؤ یونیورسٹی اوجھا کیمپس میں ٹی بی کے مریضوں کے لیے آئی سی یو اور بی ایس ایل تھری لیب جیسی جدید سہولیات بھی موجود ہیں، جبکہ سندھ حکومت کے تعاون سے تشخیص، علاج، ادویات اور خوراک مکمل طور پر مفت فراہم کی جاتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان دنیا کے ان پانچ ممالک میں شامل ہے جہاں ٹی بی کا بوجھ سب سے زیادہ ہے۔ ملک میں ہر سال تقریباً 4 لاکھ 97 ہزار 700 کیسز رپورٹ ہوتے ہیں جبکہ 25.6 فیصد مریض اب بھی نظامِ صحت کی دسترس سے باہر ہیں۔ ہر سال لگ بھگ 51 ہزار افراد اس مرض کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں، جن میں 10 سے 15 فیصد بچے بھی شامل ہیں۔ عالمی رپورٹ 2025 کے مطابق دنیا بھر میں گزشتہ سال ایک کروڑ 7 لاکھ افراد ٹی بی کا شکار ہوئے، جن میں سے 83 لاکھ کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ تقریباً 22 فیصد مریض تشخیص سے محروم رہے۔
صوبہ سندھ میں ٹی بی کے اندازاً 1 لاکھ 54 ہزار 278 کیسز موجود ہیں، جن میں سے 1 لاکھ 19 ہزار 741 رپورٹ ہو چکے ہیں جبکہ 34 ہزار 537 مریض تاحال رپورٹ نہیں ہو سکے۔ صوبے میں 455 ٹی بی کلینکس اور 16 خصوصی مراکز کام کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ٹی بی کی اہم علامات میں دو ہفتوں سے زائد کھانسی، بخار، رات کو پسینہ آنا، وزن میں کمی، بھوک کا ختم ہونا، سینے میں درد اور خون والی کھانسی شامل ہیں۔ تشخیص کے لیے تھوک اور خون کے ٹیسٹ کے ساتھ سینے کا ایکسرے کیا جاتا ہے۔ عام ٹی بی کا علاج عموماً 6 ماہ میں مکمل ہو جاتا ہے، جبکہ ملٹی ڈرگ ریزسٹنٹ (MDR) ٹی بی کے مریضوں کے لیے علاج کا دورانیہ 6 سے 18 ماہ تک ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ ایک غیر علاج شدہ مریض سالانہ 10 سے 15 افراد کو متاثر کر سکتا ہے، اس لیے بروقت تشخیص اور علاج نہایت ضروری ہے۔ آگاہی واک کا آغاز او آئی سی ڈی کے مرکزی دروازے سے ہوا جو ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال تک جاری رہی۔ شرکاء نے “ٹی بی کا علاج، کل نہیں آج” سمیت مختلف نعرے لگائے۔ اس موقع پر پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جہاں آرا حسن، ڈاکٹر نیاز سومرو، پروفیسر عظمیٰ بخاری، ڈاکٹر مرتضیٰ سوہو، ڈاکٹر محمد ندیم، ڈاکٹر فیصل فیاض زبیری، سوشل ورکر یاسمین سمیع اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
مقررین نے عوام پر زور دیا کہ دو ہفتوں سے زائد کھانسی کو ہرگز نظر انداز نہ کیا جائے اور علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر قریبی صحت مرکز سے رجوع کیا جائے۔ مقررین نے بتایا کہ جرمن سائنسدان رابرٹ کوخ نے 24 مارچ 1882 کو ٹی بی کے جرثومے کو دریافت کیا، جس کی مناسبت سے ہر سال 24 مارچ کو “ورلڈ ٹی بی ڈے” منایا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 1993 میں عالمی ادارہ صحت نے ٹی بی کو عالمی ایمرجنسی قرار دیا جبکہ پاکستان میں 2001 میں اسے قومی ایمرجنسی قرار دے کر DOTS حکمت عملی اپنائی گئی۔

