پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کا رات گئے اچانک دورہ کیا اور ایمرجنسی، چلڈرن وارڈ سمیت مختلف شعبہ جات کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس دوران وزیراعلیٰ نے مریضوں اور ان کے تیمارداروں سے براہِ راست ملاقات کر کے ان کے درپیش مسائل سنے۔

دورے کے دوران زمین پر سوئے ہوئے تیمارداروں کو دیکھ کر وزیراعلیٰ نے فوری طور پر ہسپتال میں نئی پناہ گاہ تعمیر کرنے کے احکامات جاری کیے۔ علاوہ ازیں، عوامی شکایات کی روشنی میں وزیراعلیٰ نے ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں ڈیوٹی کے دوران میڈیکل اسٹاف اور اساتذہ کے موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کی ہدایات بھی دیں۔

وزیراعلیٰ نے کینسر سے متاثرہ بچوں کے مفت علاج کا اعلان کیا اور مریضوں و ان کے لواحقین کے مسائل کے فوری حل کے لیے متعلقہ حکام کو سخت اور واضح ہدایات جاری کیں۔

عوام نے وزیراعلیٰ کے ساتھ تصاویر اور سیلفیز بنوائیں اور بلا جھجھک اپنے مسائل ان کے سامنے رکھے۔ وزیراعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ علاج معالجے اور سہولیات میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

یہ دورہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے بعد کیا گیا، جس نے عوام میں ہسپتال کی صورتحال کے حوالے سے تشویش پیدا کی تھی۔


