لاہور : انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ میں ڈین پروفیسر ڈاکٹر سائرا افضل کی سرپرستی اور عالمی ادارۂ صحت کے تعاون سے Health Impact of Digital Gender-Based Violence کے موضوع پر ایک نہایت اہم اور فکرانگیز ماہرین کی پینل ڈسکشن کا انعقاد کیا گیا۔ اس اجلاس میں ڈیجیٹل صنفی تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان اور اس کے جسمانی، ذہنی اور سماجی اثرات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

تقریب میں ممتاز ماہرین نے شرکت کی جن میں پروفیسر ڈاکٹر مجید چودھری (چیئرمین BOM)، پروفیسر ڈاکٹر روبینہ سہیل، پروفیسر ڈاکٹر ناصر (پرنسپل ڈینٹل سیکشن CMH)، ڈاکٹر جمشید (پراونشل ہیڈ WHO)، معصومہ بٹ (WHO)، مسٹر سجاد (WHO)، ڈاکٹر عرفان احمد (WHO)، ڈاکٹر مقصود، ڈاکٹر نازیہ یزدانی، ڈاکٹر عبدالجبار (ڈائریکٹر EPI پروگرام)، زارا نوید (ورلڈ فوڈ پروگرام) اور ایڈووکیٹ کاشف بندیشہ (لیگل ایڈوائزر IPH) شامل تھے۔
ماہرین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بڑھتے ہوئے ہراسانی، بلیک میلنگ، کردار کشی اور نفسیاتی دباؤ کے واقعات نہ صرف ذہنی صحت بلکہ معاشرتی استحکام پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آن لائن دنیا میں صنفی تشدد روکنے کے لیے مربوط پبلک ہیلتھ حکمتِ عملی، مضبوط قانونی اقدامات اور عوامی سطح پر شعور اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

پینل نے محفوظ ڈیجیٹل اسپیسز، نوجوانوں کی رہنمائی، متاثرین کے نفسیاتی و قانونی تعاون اور ادارہ جاتی سطح پر جامع ریسرچ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ادارہ مستقبل میں بھی ڈیجیٹل اور روایتی دونوں طرح کے صنفی تشدد کے خلاف عوامی آگاہی، مؤثر ڈائیلاگ اور حفاظتی اقدامات کو بڑھاتا رہے گا۔


