پیر, مارچ 23, 2026

متعلقہ خبریں

یہ بھی دیکھیں

وزیر اعظم کا طبی شعبے میں کریک ڈاؤن، میڈیکل ٹریبونل کا قیام، سات سال تک قید کی سزا ممکن

اسلام آباد : وزیر اعظم پاکستان نے ملک میں طبی شعبے کے تنازعات سے نمٹنے کے لیے میڈیکل ٹریبونل قائم کر دیا ہے، جس کے تحت غفلت برتنے والے ڈاکٹروں اور طبی عملے کو سات سال قید تک کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

وزارت قانون و انصاف کے احکامات کے مطابق، ٹریبونل میں دو ٹیکنیکل ممبرز ڈاکٹر محمد امجد اور ڈاکٹر منہاج السراج کو تین سال کے لیے MP-II کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔ یہ ٹریبونل صحت کے شعبے سے متعلق جرائم، شکایات اور انتظامی تنازعات کی سماعت کا مکمل اختیار رکھتا ہے اور بھاری جرمانے کے ساتھ سات سال تک قید کی سزا بھی دے سکتا ہے۔

میڈیکل ٹریبونل ایکٹ 2020 کے تحت ملک میں یہ پہلی بار ہے کہ صحت کے شعبے سے متعلق تنازعات کو فوری اور مؤثر عدالتی فورم کے ذریعے حل کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ ٹریبونل اپنی کارروائی کسی رکن کی غیر حاضری یا کسی تبدیلی کے باوجود جاری رکھ سکتا ہے اور پہلے سے موجود شواہد کو بنیاد بنا کر فیصلے صادر کر سکتا ہے۔ مرکزی دفتر اسلام آباد میں قائم ہے، مگر چیئرمین کی منظوری سے ملک کے کسی بھی شہر میں اجلاس بھی منعقد کیے جا سکتے ہیں۔

تاہم، طبی ماہرین اور ڈاکٹروں کی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ سات سال قید جیسی سخت سزائیں اور ہائی کورٹ میں اپیل کے محدود اختیارات طبی عملے کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں اور صحت کے شعبے میں اعتماد کو کمزور کر سکتے ہیں۔ بعض قانونی ماہرین نے بھی کہا ہے کہ ٹریبونل کے وسیع اختیارات اور محدود اپیل کے دائرہ کار سے طبی پیشہ ور افراد پر غیر ضروری دباؤ پڑ سکتا ہے۔

حکومت کا موقف ہے کہ ٹریبونل کا قیام صحت کے شعبے میں شفافیت اور تیز رفتاری کے ساتھ انصاف فراہم کرنے کے لیے ضروری تھا، جبکہ ڈاکٹرز کا خدشہ ہے کہ یہ قانون بعض صورتوں میں غیر متناسب سختی کے باعث طبی خدمات پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ملک بھر میں طبی شعبے میں کشیدگی اور بحثیں تیز ہو گئی ہیں، اور سب کی نظریں اب نئے میڈیکل ٹریبونل پر مرکوز ہیں۔