کراچی : کھارادر جنرل ہسپتال کے اسکول آف نرسنگ میں پہلی کانووکیشن کی پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ، معزز کمیونٹی رہنماؤں، غیر ملکی سفارتکاروں، صنعتکاروں اور صحت کے ماہرین نے شرکت کی۔ تقریب میں درجنوں گریجویٹس کو ڈگریاں دی گئیں اور انہیں صحت کے شعبے میں اہم کردار ادا کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ تعلیم اور صحت کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہیں، اور کھارادر جنرل ہسپتال کی سو سالہ خدمت لیاری اور اطراف کی آبادی کے لیے مثالی ہے۔ انہوں نے نرسنگ کے شعبے میں افرادی قوت کی شدید کمی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس مقدس پیشے سے وابستگی نہ صرف زندگیوں کو بچاتی ہے بلکہ معاشرے میں آسانیاں بھی پیدا کرتی ہے۔
چیئرمین کھارادر جنرل ہسپتال، ستارہ امتیاز یافتہ پروفیسر عبدالغفار بلو نے کہا کہ آج کی تقریب امید، خوشی اور روشن مستقبل کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز پیشہ ورانہ مہارت اور بین الاقوامی معیار کی تربیت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، جبکہ کھارادر جنرل ہسپتال کا اسکول آف نرسنگ اپنی اعلیٰ تدریسی معیار اور جدید سہولیات کے باعث علیحدہ شناخت رکھتا ہے۔

کھارادر جنرل ہسپتال کے صدر اور معروف صنعتکار محمد بشیر جان محمد نے کہا کہ صحت اور تعلیم کا فروغ قومی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسپتال ہر سال لاکھوں مریضوں کا علاج کرتا ہے جبکہ اسکول آف نرسنگ کے ہزاروں گریجویٹس پورے ملک میں صحت کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ملائیشیا کے قونصل جنرل ہرمین دائنتا احمد نے خطاب میں کہا کہ کھارادر جنرل ہسپتال کا اسکول آف نرسنگ جدید تعلیم، تربیت اور تحقیقی رجحانات کے ذریعے بہترین پروفیشنل تیار کر رہا ہے۔ اسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر خالد اقبال نے کہا کہ آج کا دن گریجویٹس، والدین اور اساتذہ کے لیے تاریخی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈینگی، ملیریا، ٹائیفائیڈ، خسرہ، ہیپاٹائٹس سمیت کئی بیماریاں اب بھی کھلے چیلنج کی صورت موجود ہیں، اور صحت عامہ کے شعور کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ڈائریکٹر اسکول آف نرسنگ طلعت پروین شاہ نے گریجویٹس کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایک نرس زندگی، امید اور خدمت کی علامت ہے جو بغیر کسی رنگ، نسل یا مذہب کے امتیاز کے انسانیت کی خدمت کرتی ہے۔
اسکول کے پرنسپل محمد شاہد نے کہا کہ جدید تحقیق اور سائنسی رجحانات کو اپنائے بغیر نئے طبی چیلنجز سے نمٹنا ممکن نہیں۔ آخر میں مہمانانِ خصوصی نے گریجویٹس کو ڈگریاں عطا کیں۔ تقریب کا اختتام تعلیم، خدمت اور انسانیت کے سفر کو آگے بڑھانے کے عزم کے ساتھ ہوا


