منگل, اپریل 28, 2026

متعلقہ خبریں

یہ بھی دیکھیں

محکمہ صحت سندھ میں ترقی کا کھیل بے نقاب — سنیارٹی روند کر جونیئر افسر بازی لے گیا

کراچی : محکمہ صحت سندھ میں مبینہ طور پر سنیارٹی نظر انداز کر کے جونیئر افسر کی ترقی کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس پر متاثرہ افسر نے باقاعدہ اپیل دائر کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری انصاف کا مطالبہ کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈی جی ہیلتھ سروسز سندھ حیدرآباد کے دفتر میں تعینات اسسٹنٹ (BPS-16) محمد اکرم ملاح نے سیکریٹری ہیلتھ سندھ کو ارسال کردہ درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ 23 اپریل 2026 کی ایک سرکاری نوٹیفکیشن کے ذریعے 12 اسسٹنٹس کو سپرنٹنڈنٹ (BPS-17) کے عہدوں پر ترقی دی گئی، تاہم اس عمل میں ان کی سنیارٹی کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔

درخواست گزار کے مطابق محمد صہیب رومی، جو عمر اور سروس ریکارڈ کے لحاظ سے ان سے جونیئر ہیں، کو ترقی دے دی گئی جبکہ انہیں نظر انداز کیا گیا، حالانکہ دونوں افسران کو یکم جولائی 2012 سے ایک ہی دفتر میں ریگولرائز کیا گیا تھا۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں اور محکمہ صحت کے اپنے احکامات کے باوجود سروس ریکارڈ کی مناسب جانچ پڑتال نہیں کی گئی۔

محمد اکرم ملاح نے اپنی اپیل میں مزید انکشاف کیا کہ 2015 میں جاری ایک نوٹیفکیشن کے تحت محمد صہیب رومی کو سپرنٹنڈنٹ کے عہدے سے واپس اسسٹنٹ کے عہدے پر بھیجا گیا تھا، تاہم بعد ازاں ان کی دوبارہ ترقی بغیر مکمل تصدیق کے کر دی گئی، جو کہ قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی تاریخ پیدائش 16 مئی 1978 ہے جبکہ مذکورہ جونیئر افسر کی تاریخ پیدائش 21 جون 1981 ہے، جس کے مطابق وہ واضح طور پر سینئر بنتے ہیں اور ترقی کے اصل حقدار بھی۔

انہوں نے سیکریٹری ہیلتھ، چیف سیکریٹری سندھ اور وزیر صحت سے اپیل کی ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر سنیارٹی کی بنیاد پر انہیں سپرنٹنڈنٹ (BPS-17) کے عہدے پر ترقی دی جائے اور مبینہ بے ضابطگیوں کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔

محکمہ صحت سندھ کے ذرائع کے مطابق اس نوعیت کے معاملات ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں، جس سے محکمانہ شفافیت اور میرٹ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے متعلقہ حکام کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آ سکا۔