کراچی (ہیلتھ ٹائمز خصوصی رپورٹ) سندھ بھر میں غیر محفوظ انتقالِ خون (بلڈ ٹرانسفیوژن) کا خطرناک دھندہ بدستور عروج پر ہے، جبکہ اس اہم شعبے کو ریگولیٹ کرنے والے قوانین اور ادارے عملی طور پر غیر مؤثر دکھائی دیتے ہیں۔ صوبے میں بلڈ بینکس کی رجسٹریشن کا عمل تقریباً معطل ہو چکا ہے، جس کے باعث غیر رجسٹرڈ اور غیر معیاری بلڈ بینکس کھلے عام کام کر رہے ہیں اور شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
یاد رہے کہ حکومت نے 2017 میںسندھ بلڈ ٹرانسفیوژن ایکٹ منظور کیا تھا جس کے تحت اتھارٹی عمل میں لائی گئی اوروزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی منظوری سےایک بورڈ تشکیل دیا گیا۔ جس میں دو اراکین صوبائی اسمبلی،سیکریٹری صحت سندھ، آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں خون کی منتقلی کی خدمات کے ڈائریکٹر، ڈاؤ یونیورسٹی کے ڈاکٹر فرخ علی خان ،ریجنل بلڈ ٹرانسفیوژن سینٹر کراچی کے بریگیڈیئر (ر) محمد سرور خان اور سیکریٹری سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کو شامل کیا گیا۔
سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کا قیام تو عمل میں لایا گیا تھا تاکہ خون کی محفوظ فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے مگر سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن ایکٹ کے تحت قائم ہونے والی اتھارٹی اور بورڈ تاحال غیر فعال ہے۔ حیران کن طور پر سالوں سے قائم اتھارٹی اور بورڈ کا آج تک ایک بھی ایسا باضابطہ اجلاس نہیں ہوسکا جس میں تمام اراکین نے شرکت کی ہو، جس سے ادارے کی کارکردگی اور شفافیت پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں
ماہرین صحت کے مطابق سیف بلڈ ٹرانسفیوژن ایکٹ کا مقصد خون کی اسکریننگ، ذخیرہ اور منتقلی کے عمل کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانا تھا، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں درجنوں بلڈ بینکس بغیر مناسب اسکریننگ اور نگرانی کے کام کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ہیپاٹائٹس بی، سی، ایچ آئی وی اور دیگر مہلک بیماریوں کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔۔
یہ بھی پڑھیں : سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی میں غیر قانونی ایکسٹینشن کا سنگین اسکینڈل، اہلیت نہ ہونے کے باوجود ڈاکٹر در ناز جمال کو برقرار رکھنے کا فیصلہ
اس تمام صورتحال میں سب سے تشویشناک پہلو سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کی قیادت کا بحران ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اتھارٹی ایک طویل عرصے سے کسی مستند اور تجربہ کار پیتھالوجسٹ سربراہ سے محروم ہے، جو اس حساس شعبے کی بنیادی ضرورت ہے۔ اس کے برعکس، حکومت سندھ نے ایک مبینہ طور پر سفارشی خاتون افسر کو، جو بطور ویمن میڈیکل آفیسر خدمات انجام دے رہی تھیں اور ایم بی بی ایس کے بعد گائناکولوجی سے متعلق کورس رکھتی تھیں، ابتدائی طور پر اتھارٹی میں تعینات کیا۔ بعد ازاں انہیں ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز کیا گیا اور پھر ریٹائرمنٹ کے باوجود انہیں قواعد و ضوابط اور عدالتی اصولوں کے برعکس توسیع (ایکسٹینشن) دے کر سیکرٹری کے طور پر تعینات کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق جب ان کی دوبارہ تعیناتی کے لیے سفارش کی گئی تو اس پر شدید اعتراضات اٹھائے گئے، تاہم وزیر صحت سندھ اور سابق سیکرٹری صحت ریحان اقبال بلوچ نے اس تقرری کو اتھارٹی کے لیے “ناگزیر” قرار دیتے ہوئے برقرار رکھا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مذکورہ خاتون افسر، ڈاکٹر در ناز، پیپلز پارٹی کی سینئر سیاسی شخصیت خورشید شاہ کی قریبی عزیز ہیں، جس کے باعث ان کی تقرری کو میرٹ کے بجائے سیاسی اثر و رسوخ کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
محکمہ صحت کی مبینہ غفلت کے باعث نہ صرف بلڈ بینکس کی باقاعدہ انسپکشن نہیں ہو رہی بلکہ غیر قانونی مراکز کے خلاف بھی مؤثر کارروائی کا فقدان ہے۔ اس کا براہِ راست اثر عام شہریوں پر پڑ رہا ہے، جو محفوظ خون کے حصول کے لیے دربدر ہیں اور اکثر مہنگے داموں غیر معیاری خون خریدنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
سماجی حلقوں، ماہرین صحت اور شہریوں نے اس سنگین صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کو فوری طور پر فعال بنایا جائے، ایک مستند پیتھالوجسٹ کو سربراہ مقرر کیا جائے، اور بلڈ بینکس کی رجسٹریشن، مانیٹرنگ اور انسپکشن کے نظام کو مؤثر بنایا جائے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو غیر محفوظ انتقالِ خون کا یہ بے قابو نظام ایک بڑے عوامی صحت کے بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات آنے والے برسوں تک لاکھوں افراد کی زندگیوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

