کراچی (ہیلتھ ٹائمز رپورٹ) محکمہ صحت سندھ نے بدعنوانی کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ایک اور اہم افسر کو عہدے سے ہٹانے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈی ایچ او ایسٹ ڈاکٹر زاہد حسین سولنگی کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جلد جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر زاہد سولنگی کے خلاف محکمہ صحت کو متعدد سنگین شکایات موصول ہوئی تھیں، جن میں ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی جانب سے مالی بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات شامل ہیں۔ شکایات میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر زاہد سولنگی کی تعیناتی کے بعد ضلع صحت کے حوالے سے تباہ اور ڈسپنسریاں زبوں حالی کا شکار ہو گئی ہیں۔
مزید یہ کہ ان کے زیرِ انتظام ضلع میں درجنوں ڈاکٹرز کی غیر حاضری کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کچھ ڈاکٹرز بیرونِ ملک مقیم ہونے کے باوجود “ویزا سسٹم” کے تحت اپنی تنخواہوں کا ایک حصہ ادا کر کے ملازمت برقرار رکھے ہوئے ہیں، جس سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچ رہا ہے اور صحت کے نظام کی کارکردگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے ان شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے ابتدائی تحقیقات کیں، جن میں الزامات کو خاصی حد تک درست قرار دیا گیا۔ اسی تناظر میں ڈاکٹر زاہد سولنگی کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ مزید شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جا سکے۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ محکمہ صحت اس معاملے کو مثال بناتے ہوئے دیگر اضلاع میں بھی ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کا دائرہ بڑھانے پر غور کر رہا ہے، تاکہ نظام میں موجود بدعنوانی کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے جبکہ اس سے قبل محکمہ صحت میں بڑے پیمانے پر انتظامی رد و بدل کیا جا چکا ہے، جس کے تحت کراچی کے دو ڈی ایچ اوز، میڈیکل سپرنٹنڈنٹس، سیکشن افسران کی ایک پوری کھیپ کے ساتھ ساتھ چیف ڈرگ انسپکٹر اور ڈرگ انسپکٹر کو بھی عہدوں سے ہٹا کر دیگر مقامات پر تعینات کیا جا چکا ہے۔


