پیر, مارچ 23, 2026

متعلقہ خبریں

یہ بھی دیکھیں

ایبٹ آباد میں قیامت خیز سانحہ — اغوا کی گئی ڈاکٹر وردا مشتاق کی لاش برآمد، صوبے بھر میں ڈاکٹرز کا مکمل بائیکاٹ، پولیس کارکردگی پر شدید سوالات

ایبٹ آباد : چار روز قبل ایبٹ آباد کے ڈی ایچ کیو (بینظیر شہید) اسپتال سے اغوا کی جانے والی 27 سالہ لیڈی ڈاکٹر وردا مشتاق کی لاش آج ٹھنڈیانی کے ایک ویران مقام سے برآمد ہوئی، جس نے پورے ہزارہ ڈویژن اور خیبر پختونخوا میں کہرام مچا دیا ہے۔ روزانہ مریضوں کی جانیں بچانے کے لیے ڈیوٹی پر جانے والی یہ مسیحا خود اس بے حس نظام کی بھینٹ چڑھ گئی، جو اسے تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔

تحقیقات کے مطابق ڈاکٹر وردا کو کسی اجنبی نے نہیں بلکہ ان کی اپنی سہیلی ردا نے اپنے شوہر وحید کے ساتھ مل کر اغوا کیا۔ دونوں ملزمان نے ڈاکٹر وردا کو اسپتال سے گاڑی میں بٹھا کر جدون پلازہ کے زیرِ تعمیر مکان میں پہنچایا، جہاں بدنامِ زمانہ لڑی بنوٹہ ٹھنڈیانی گینگ پہلے سے گھات لگائے بیٹھا تھا، اور ردا انہیں ان درندہ صفت عناصر کے حوالے کرکے پرسکون انداز میں واپس چلی گئی لیکن پولیس نے معاملے نے سستی دکھائی۔

بعد ازاں جب ڈی پی او ہارون الرشید نے مداخلت کی اور کیس دوبارہ کھولا تو تفتیشی ٹیم نے ردا سے اصل سچ اگلوا لیا۔ ردا کے مطابق ڈاکٹر وردا کو جدون پلازہ والے گھر میں ڈکیت گینگ کے سرغنہ شمعریز اور ندیم کے حوالے کیا گیا، وہاں سے اسے سوزوکی کے ذریعے نامعلوم مقام منتقل کیا گیا۔ ردا کی نشاندہی پر نواں شہر کے علاقے سے ندیم گرفتار ہوا تو اس کے خوفناک اعتراف نے پورے شہر کو دہلا دیا۔ اس کے بعد پولیس نے ٹھنڈیانی کے گھنے جنگلات، ندی نالوں اور ویران راستوں میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا تھا، لیکن ہر گزرتے لمحے کے ساتھ یہ خدشہ شدت اختیار کرتا جا رہا تھا کہ شاید ڈاکٹر وردا کو قتل کر دیا گیا ہو۔

پولیس کے اسی سرچ آپریشن کے دوران آج ڈاکٹر وردا کی بوری بند لاش ٹھنڈیانی کے ایک علاقے سے ملی، جس کے بعد پورا شہر سوگوار ہو گیا۔ ڈاکٹرز تنظیموں اور شہری حلقوں نے اس سانحے کو صرف ایک قتل نہیں بلکہ پورے نظامِ انصاف کے دھڑام سے گر جانے کے مترادف قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق پولیس کی مجرمانہ غفلت—جس میں SHO کینٹ کا دو روز تک ڈی پی او کو لاعلم رکھنا، مرکزی ملزمان کو پہلے روز چھوڑ دینا، بروقت سرچ آپریشن نہ کرنا، اور تفتیش میں مسلسل تاخیر شامل ہے—نے اس ہولناک انجام کی راہ ہموار کی۔

اسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج

ڈاکٹر وردا کے والدین اور گھر والوں کے لیے یہ چار روز قیامت کی طرح تھے، اور آج بیٹی کی بے جان لاش دیکھ کر ان کی دنیا ہمیشہ کے لیے اندھیری ہو گئی ہے۔ شہر بھر میں غم اور اشتعال کی فضا برقرار ہے۔

ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کے چیئرمین ڈاکٹر محمد زبیر زائر نے کہا کہ یہ قتل نہیں بلکہ نظام کی موت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی سنگین سستی اور ناقص تفتیش نے اس معصوم ڈاکٹر کو سفاک مجرموں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر وردا کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائے بغیر کوئی بات نہیں ہو سکتی۔

اسی حوالے سے صوبائی ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا نے سخت ترین پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر وردا کا قتل ہمارے حفاظتی اور انتظامی ڈھانچے کی کھلی ناکامی ہے۔ پریس ریلیز میں مطالبہ کیا گیا کہ مرکزی ملزمان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے، انہیں فی الفور گرفتار کر کے قرارِ واقعی سزا دی جائے، اور اس کیس میں ملوث پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر ڈسمس اور ٹرمینیٹ کیا جائے۔

ڈاکٹر برادری نے فوری طور پر احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے پورے ہزارہ ڈویژن میں ہڑتال شروع کر دی ہے، جبکہ کل سے پورے خیبر پختونخوا میں مکمل ہڑتال کی جائے گی، جس کے دوران تمام elective سروسز بند رہیں گی۔ ڈاکٹر تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر واقعے میں ملوث تمام عناصر کو گرفتار نہ کیا گیا تو شدید تر احتجاجی لائحہ عمل دیا جائے گا، جس کی ذمہ داری حکومت اور انتظامیہ پر ہوگی۔