پیر, مارچ 23, 2026

متعلقہ خبریں

یہ بھی دیکھیں

انڈس انسائیٹ سمپوزیم 2025 — پاکستان میں نیوروسائنس، آنکالوجی اور جینومکس کا پہلا مشترکہ سینٹر آف ایکسیلنس قائم کرنے کی تیاری

کراچی : انڈس اسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک اور انسائٹ ہاسپٹل اینڈ میڈیکل سینٹر شکاگو کے اشتراک سے کراچی میں ’’انڈس انسائیٹ سمپوزیم 2025‘‘ شاندار انداز میں منعقد ہوا۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا بین الاقوامی سمپوزیم تھا، جس میں پاکستان اور امریکہ کے ممتاز معالجین، سائنس دانوں، محققین اور پالیسی ماہرین نے شرکت کی۔ اس اعلیٰ سطحی اجلاس کا مقصد پاکستان میں نیوروسائنس، آنکالوجی اور جینومکس کے لیے پہلا مربوط سینٹر آف ایکسیلنس قائم کرنے کے روڈ میپ کو حتمی شکل دینا تھا۔

سمپوزیم کا پہلا سیشن سلیم حبیب یونیورسٹی میں ہوا جبکہ بعد ازاں گورنر ہاؤس کراچی میں خصوصی لیڈرشپ سیشن منعقد کیا گیا۔امریکہ سے آئے صدر انسائٹ انسٹیٹیوٹ، ڈاکٹر جواد شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ سرحد پار مضبوط اشتراک تحقیق، تربیت اور جدید علاج میں انقلاب لاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جدید ترین جینیات اور نیورولوجی کے شعبوں میں ترقی کا بے پناہ امکان موجود ہے۔

صدر انڈس اسپتال ڈاکٹر عبدالباری خان نے سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ سینٹر آف ایکسیلنس کا قیام عام آدمی کے لیے جدید علاج تک مساوی رسائی کی بنیاد ثابت ہوگا۔ جبکہ ڈاکٹر تیپو صدیقی نے پاکستان کے پہلے جینیٹکس انسٹیٹیوٹ کی ضرورت اور اس کی قومی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

پینل سیشنز میں ماہرین نے کلینیکل پاتھ ویز، ورچوئل ٹیومر بورڈز، تربیتی پروگرامز، تحقیق میں اشتراک اور عالمی معیار کے کلینیکل سسٹمز پر تفصیلی گفتگو کی۔ ڈاکٹر محمد شمویل اشرف نے شواہد پر مبنی طبی نظام کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ ڈاکٹر سید احمر حامد نے بچوں کے کینسر کے علاج میں عالمی تعاون کی اہمیت بیان کی۔ بین الاقوامی ماہرین نے پاکستان میں جدید تحقیقی نیٹ ورک، لاعلاج بیماریوں کے علاج اور اعلیٰ تعلیم کے نئے مواقع پیدا ہونے کو بڑی پیش رفت قرار دیا۔

قائم مقام سی ای او انڈس اسپتال، ڈاکٹر امین چنائے نے تمام شریک ماہرین اور اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اعلان کیا کہ سینٹر آف ایکسیلنس اور جینیٹکس انسٹیٹیوٹ کے قیام کے لیے ورکنگ گروپ جلد تشکیل دیا جائے گا، جو فریم ورک، فنڈنگ ماڈل اور طویل مدتی پروگرامز کو حتمی شکل دے گا۔ انڈس انسائیٹ سمپوزیم 2025 پاکستان میں عالمی معیار کی طبی دیکھ بھال، تحقیق اور تربیت کے نئے دور کے آغاز کا سنگِ میل ثابت ہوا