جمعہ, مارچ 27, 2026

متعلقہ خبریں

یہ بھی دیکھیں

ٹی بی کے خلاف جنگ تیز، اوجھا انسٹیٹیوٹ کو عالمی اعزاز ملنے کے قریب

کراچی : ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی وائس...

سندھ گورنمنٹ اسپتال پی آئی بی کالونی میں مبینہ کرپشن اور بدانتظامی کا طوفان، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے خلاف سنگین الزامات سامنے آگئے

کراچی : سندھ گورنمنٹ 100 بیڈڈ ہسپتال، پی آئی بی کالونی ایک نئے بڑے اسکینڈل کی زد میں آ گیا ہے جہاں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد سرور کے خلاف کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور عملے کو ہراساں کرنے جیسے انتہائی سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اسپتال کے قیام کے آغاز سے ہی مبینہ طور پر بدعنوانی کا سلسلہ جاری ہے اور ڈاکٹرز و عملے سے تعیناتیوں، تبادلوں اور یہاں تک کہ ایف او ٹو (FO2) فارم کی تکمیل کے لیے بھی غیر قانونی رقوم طلب کی جا رہی ہیں، جو نہ صرف سرکاری قواعد کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ محکمہ صحت کی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اہل اور تجربہ کار ڈاکٹروں کو “ویزا سیٹلنگ” جیسے مبہم جواز کے تحت کام سے روکا جا رہا ہے جبکہ ان کی جگہ من پسند اور نااہل افراد کو تعینات کیا جا رہا ہے، جس سے اسپتال کی کارکردگی بری طرح متاثر اور مریضوں کو سہولیات کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔ مزید انکشافات کے مطابق ڈاکٹر محمد سرور مبینہ طور پر سیکریٹری ہیلتھ کا نام استعمال کرتے ہوئے عملے کو دھمکاتے ہیں اور اسپتال میں خوف و ہراس کی فضا قائم کر رکھی ہے، جبکہ عملے کی اسسٹنٹ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (AMS) تک رسائی بھی محدود کر دی گئی ہے۔

انتہائی تشویشناک الزامات میں شام کی شفٹوں کے دوران لیڈی ڈاکٹروں کے ساتھ مبینہ نامناسب رویہ بھی شامل ہے، جہاں انہیں بغیر کسی واضح انتظامی جواز کے کئی کئی گھنٹوں تک دفتر میں بٹھائے رکھنے کی شکایات سامنے آئی ہیں، جس پر حلقۂ طبی میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ڈیلی ویجز پر غیر قانونی بھرتیاں کی جا رہی ہیں اور مبینہ طور پر من پسند افراد سے فی کس ایک لاکھ پچیس ہزار روپے وصول کر کے انہیں مستقل کرنے کی یقین دہانی کروائی جا رہی ہے، جو کہ کھلی بدعنوانی اور سنگین جرم کے زمرے میں آتا ہے۔

ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ ڈاکٹر محمد سرور کے خلاف ماضی میں سندھ گورنمنٹ اسپتال کورنگی نمبر 5 میں تعیناتی کے دوران ہراسانی کا کیس بھی رپورٹ ہو چکا ہے، اس کے باوجود انہیں ایک اہم سرکاری اسپتال کا سربراہ مقرر کرنا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔

متاثرہ عملے اور ذرائع نے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، سیکریٹری ہیلتھ اور اینٹی کرپشن حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کرائی جائے، اور تمام عملے کے بیانات ریکارڈ کر کے حقائق منظر عام پر لائے جائیں۔ ساتھ ہی یہ بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ الزامات ثابت ہونے کی صورت میں متعلقہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا کر محکمہ صحت کو بدعنوان عناصر سے پاک کیا جائے تاکہ عوامی اعتماد بحال ہو سکے۔