جمعہ, اگست 7, 2026

متعلقہ خبریں

یہ بھی دیکھیں

ڈاکٹر نگہت شاہ کو ریٹائرمنٹ کے بعد توسیع دینے کی تیاری، اہل فیکلٹی کی ترقی خطرے میں پڑ گئی

کراچی : جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی اور جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں ریٹائرمنٹ کے بعد سروس توسیع کا ایک اور معاملہ سامنے آگیا ہے، جس نے ادارے میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ جناح اسپتال کے وارڈ 9-B کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر نگہت شاہ کی 12 اگست کو ریٹائرمنٹ کے باوجود انہیں سروس میں توسیع دینے کی کوششیں جاری ہیں، جس کے باعث ترقی کے منتظر متعدد سینئر اساتذہ میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق پروفیسر ڈاکٹر نگہت شاہ اس وقت ریٹائرمنٹ تک جے ایس ایم یو میں پرو وائس چانسلر کے فرائض انجام دے رہی ہیں، تاہم جے ایس ایم یو ایکٹ کے تحت پرو وائس چانسلر کے عہدے پر ریٹائرمنٹ کے بعد توسیع کی گنجائش موجود نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے ان کی جانب سے پروفیسر او بی جی وائی این کی حیثیت سے سروس توسیع حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق جے ایس ایم یو پہلے ہی پروفیسر او بی جی وائی این سمیت مختلف تدریسی آسامیوں کے لیے اشتہار جاری کر چکی ہے اور بھرتیوں کا عمل زیر تکمیل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ نشست پر توسیع دے دی گئی تو نہ صرف ترقی کا عمل متاثر ہوگا بلکہ جاری بھرتی کے عمل پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس ممکنہ توسیع سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر شازیہ نصیب، ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر صبا خان، ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر نسرین فاطمہ، ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر میمونہ رحمان اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ارم ماجد سمیت دیگر  شامل ہیں، جو پروفیسر کے عہدے کے لیے انٹرویو کی منتظر ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس کے علاوہ بھی دیگر اہل فیکلٹی ممبران ترقی کے منتظر ہیں، جنہیں خدشہ ہے کہ توسیع کی صورت میں ان کا حق مزید مؤخر ہو جائے گا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ چیف سیکریٹری سندھ کو جمعہ کے روز وارڈ 9-B میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں مدعو کیا گیا ہے۔ جس  کا مقصد اس توسیع کو منظور کرانے کی راہ مذید ہموار کرنا ہے

واضح رہے کہ ڈاکٹر نگہت شاہ سابق وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاہ کی صاحبزادی ہیں اور سیاسی اثر رسوخ کی حامل ہیں اور ان کے لئے قوانین کو بالائے طاق رکھنے کی تیاری کر لی گئی ہے۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ حالیہ برسوں میں سندھ کے مختلف اداروں میں ریٹائرمنٹ کے بعد بعض افسران کو دوبارہ تعینات یا سروس میں توسیع دیے جانے کے معاملات سامنے آتے رہے ہیں، جن پر میرٹ، شفافیت اور ترقی کے منتظر افسران و اساتذہ کے حقوق کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔