کراچی : جناح اسپتال کراچی کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے واقعے پر اسپتال انتظامیہ کی ابتدائی تردید اور صفائیاں انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے بعد سوالیہ نشان بن گئی ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ زچگی کے درد میں مبتلا خاتون کو بروقت طبی امداد فراہم نہیں کی گئی، ضروری معائنہ نہیں ہوا اور ڈیوٹی پر موجود ذمہ دار افسران اپنی جگہوں پر بھی موجود نہیں تھے۔
تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق متاثرہ خاتون نادیہ کو اسپتال پہنچنے کے بعد نہ تو مطلوبہ طبی جانچ سے گزارا گیا اور نہ ہی الٹراساؤنڈ کیا گیا۔ اس کے بجائے انہیں چلنے پھرنے کا مشورہ دے دیا گیا، جس کے نتیجے میں وہ اسپتال کے واش روم میں بچے کو جنم دینے پر مجبور ہو گئیں۔
یہ انکشاف اس مؤقف کے برعکس ہے جو واقعے کے بعد اسپتال انتظامیہ نے اختیار کیا تھا۔ انتظامیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ خاتون نے لیبر روم میں بچے کو جنم دیا اور واش روم میں پیدائش کی خبریں “بے بنیاد” ہیں، تاہم اب سرکاری انکوائری نے معاملے میں طبی اور انتظامی غفلت کی نشاندہی کر دی ہے۔
رپورٹ میں ڈیوٹی پر موجود کنسلٹنٹ اور ریزیڈنٹ میڈیکل آفیسر (آر ایم او) کی غیر حاضری کو بھی سنگین کوتاہی قرار دیا گیا ہے، جبکہ گائنی وارڈ میں مرد افراد کی موجودگی، سیکیورٹی کے ناقص انتظامات اور نگرانی کے کمزور نظام کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
کمیٹی نے ذمہ دار آر ایم او کے خلاف محکمانہ کارروائی اور متعلقہ پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں کے خلاف تادیبی اقدامات کی سفارش کی ہے۔
واش روم ڈیلیوری کا واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صوبے بھر میں موضوعِ بحث بنا تھا اور سرکاری اسپتالوں میں زچگی کی سہولیات، مریضوں کے ساتھ رویے اور انتظامی جوابدہی پر سنگین سوالات اٹھے تھے۔ اب انکوائری رپورٹ نے نہ صرف ان خدشات کو تقویت دی ہے بلکہ یہ سوال بھی کھڑا کر دیا ہے کہ اگر ویڈیو منظر عام پر نہ آتی تو کیا یہ معاملہ بھی دیگر شکایات کی طرح دب جاتا؟
صحت کے شعبے سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اصل امتحان اب رپورٹ جاری ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اگر سفارشات پر عملدرآمد نہ ہوا تو یہ رپورٹ بھی ماضی کی کئی انکوائریوں کی طرح محض فائلوں تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔

