خانیوال : پنجاب کے ضلع خانیوال میں مبینہ غیر فطری جنسی عمل کے نتیجے میں 18 سالہ نو بیاہتا خاتون کی ہلاکت کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ پولیس نے شوہر کے خلاف قتل سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کر لیا ہے، جبکہ مقامی عدالت نے ملزم کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ عدالت نے تفتیشی افسر کو ہدایت کی ہے کہ ملزم کو 3 جون کو دوبارہ پیش کیا جائے اور اس دوران تفتیش مکمل کرتے ہوئے پیش رفت رپورٹ بھی جمع کرائی جائے۔ عدالت نے ملزم کے طبی معائنے کا حکم بھی دیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق مقتولہ کی شادی تقریباً تین ماہ قبل ہوئی تھی۔ مقدمے اور ابتدائی تفتیش کے دوران سامنے آنے والے الزامات کے مطابق مخصوص ایام کے دوران شوہر نے مبینہ طور پر اپنی اہلیہ کے ساتھ بار بار غیر فطری جنسی عمل کیا جس کے باعث خاتون کی صحت شدید متاثر ہوئی اور انہیں سنگین طبی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ متوفیہ کے اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ خاتون نے اپنی والدہ اور دیگر قریبی رشتہ دار خواتین کو بتایا تھا کہ شوہر کے رویے اور مبینہ غیر فطری جنسی عمل کے باعث انہیں شدید تکلیف، خون بہنے اور انفیکشن کی شکایت تھی۔ اہل خانہ کے مطابق متاثرہ خاتون کی حالت مسلسل بگڑتی رہی اور جب وہ والدین کے گھر آئیں تو انتہائی کمزور اور بیمار دکھائی دے رہی تھیں۔ اہل خانہ کے مطابق طبیعت خراب ہونے پر خاتون کو نشتر اسپتال ملتان منتقل کیا گیا جہاں انہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔ بعد ازاں ان کا آپریشن بھی کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکیں اور دورانِ علاج انتقال کر گئیں۔
ڈی پی او خانیوال محمد عابد کے مطابق ابتدائی میڈیکو لیگل رپورٹ میں خاتون کو شدید جسمانی صدمہ پہنچنے اور ریکٹل پرولیپس (Rectal Prolapse) جیسی پیچیدگی کا ذکر کیا گیا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ ایک ایسی حالت ہے جس میں آنت کا آخری حصہ اپنی جگہ سے نیچے سرک آتا ہے اور بعض صورتوں میں فوری جراحی علاج کی ضرورت پیش آتی ہے۔ پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون نے زندگی میں ہی شوہر کے خلاف درخواست دی تھی، جس کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا۔ بعد ازاں خاتون کی وفات کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعہ 302 بھی شامل کر دی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کی موت اور مبینہ جنسی تشدد کے درمیان تعلق کے حوالے سے حتمی رائے فارنزک اور مکمل طبی رپورٹس آنے کے بعد قائم کی جائے گی۔
تفتیشی حکام کے مطابق پوسٹ مارٹم کے بعد حاصل کیے گئے نمونے فرانزک لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ادھر پولیس نے مقدمے کے اندراج میں مبینہ تاخیر کے معاملے پر متعلقہ افسران کے خلاف بھی کارروائی کی ہے۔ حکام کے مطابق بعض پولیس اہلکاروں کو معطل کیا گیا جبکہ قانونی کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب ملزم کے اہل خانہ نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ عدالت میں اپنا مؤقف پیش کریں گے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی تفتیش جاری ہے اور حتمی حقائق عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد، فرانزک رپورٹس اور طبی ریکارڈ کی بنیاد پر سامنے آئیں گے۔

