کراچی : میرپورخاص میں میڈیکل طالبہ فہیمیدہ لغاری کی ہلاکت کے معاملے پر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) بھی متحرک ہو گئی ہے اور واقعے پر گہرے دکھ کے ساتھ سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہراسانی کے الزامات پر زیرو ٹالرنس پالیسی دہرا دی ہے۔
پی ایم ڈی سی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایک نوجوان طالبہ کی اس طرح المناک موت نہایت افسوسناک ہے، جبکہ اس کے پسِ منظر میں سامنے آنے والے ہراسانی کے الزامات انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں، جنہیں کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے سندھ حکومت کی جانب سے جاری تحقیقات کا خیرمقدم کرتے ہوئے واضح کیا کہ انکوائری ہر پہلو سے شفاف، غیر جانبدار اور جامع ہونی چاہیے اور اس کی مکمل رپورٹ پی ایم ڈی سی کو فراہم کی جائے تاکہ مزید کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
پی ایم ڈی سی نے اس موقع پر تمام میڈیکل اور ڈینٹل اداروں کو ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ ہراسانی کے خلاف پالیسی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ کونسل کے مطابق گزشتہ سال ہی تمام اداروں کو ہدایت جاری کی گئی تھی کہ وہ باقاعدہ اور فعال اینٹی ہراسمنٹ کمیٹیاں قائم کریں، تاکہ طلبہ کی شکایات کا فوری ازالہ ممکن ہو اور انہیں محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔
بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ اگر کسی طالب علم کی شکایت ادارہ جاتی سطح پر حل نہ ہو تو وہ براہِ راست پی ایم ڈی سی کی ہراسمنٹ کمیٹی سے رجوع کر سکتا ہے، اور ایسے معاملات میں کونسل خود کارروائی کی مجاز ہے۔
ڈاکٹر رضوان تاج نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ان ہدایات پر عمل نہ کرنا یا طلبہ کو محفوظ ماحول فراہم کرنے میں ناکامی پی ایم ڈی سی قوانین کی خلاف ورزی تصور ہو گی، جس پر سخت ریگولیٹری ایکشن لیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ اینٹی ہراسمنٹ کمیٹیوں کا قیام محض رسمی تقاضا نہیں بلکہ طلبہ کے تحفظ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
پی ایم ڈی سی نے اس کیس سے متعلق مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے، جس میں واقعے کی تفصیلات، ادارے کی جانب سے کیے گئے اقدامات، اور حکومتی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ شامل ہوں گی۔ حکام کے مطابق رپورٹ موصول ہونے کے بعد معاملہ پی ایم ڈی سی کی ڈسپلنری کمیٹی میں پیش کیا جائے گا جہاں ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
کونسل نے مرحومہ کے اہلخانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ملک بھر کے میڈیکل اداروں کو خبردار کیا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے نہ صرف ضابطہ اخلاق بلکہ عملی اقدامات بھی یقینی بنائے جائیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہراسانی، دھمکی یا کسی بھی قسم کی بدسلوکی نہ صرف اخلاقی بلکہ قانونی طور پر بھی ناقابل قبول ہے۔
پی ایم ڈی سی نے واضح کیا کہ طلبہ کی عزت، تحفظ اور ذہنی صحت اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں کسی بھی قسم کی غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ یہ پیش رفت اس کیس کو مزید اہم بنا رہی ہے، جہاں اب صرف صوبائی نہیں بلکہ قومی سطح پر بھی احتساب کا دائرہ وسیع ہوتا دکھائی دے رہا ہے

