منگل, مارچ 31, 2026

متعلقہ خبریں

یہ بھی دیکھیں

خیبرپختونخوا کے اسپتالوں میں 1 ارب 30 کروڑ کی ادویات کرپشن، 24 ایم ایس کو شوکاز نوٹس، تحقیقات سندھ کے اسپتالوں تک پھیلانے کا مطالبہ

پشاور (ہیلتھ ٹائمز خصوصی رپورٹ) خیبرپختونخوا کے سرکاری اسپتالوں میں ادویات کی خریداری کے نظام میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد محکمہ صحت نے سخت ایکشن لیتے ہوئے 24 سرکاری اسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس (ایم ایس) کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ حکام کے مطابق مجموعی طور پر تقریباً ایک ارب 30 کروڑ روپے کی مبینہ مالی خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں، جس نے صوبے کے صحت کے نظام میں شفافیت اور نگرانی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

محکمہ صحت کی جانب سے جاری دستاویزات کے مطابق متعدد اسپتالوں میں ادویات کی خریداری کے دوران طے شدہ مالی قواعد و ضوابط کو نظر انداز کیا گیا۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بعض اداروں نے مقررہ طریقہ کار کے برخلاف ادویات خریدیں، کئی کیسز میں ڈرگ ٹیسٹنگ اور کوالٹی کلیئرنس کے بغیر ہی ادائیگیاں کر دی گئیں جبکہ متعدد اسپتالوں نے اپنے مختص بجٹ سے تجاوز کرتے ہوئے اخراجات کیے۔

مزید برآں، تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ کئی اسپتالوں نے ادویات مہنگے داموں خریدیں جبکہ مقامی سطح پر خریداری میں بھی بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ دستاویز کے مطابق تقریباً 80 فیصد بجٹ کو مقررہ ضابطوں کے مطابق خرچ نہیں کیا گیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کے بقایاجات کو موجودہ بجٹ سے ادا کرنے کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جو مالی نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزی تصور کی جا رہی ہے۔

صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ بیشتر سرکاری اسپتالوں کا ادویات کے لیے مختص بجٹ قبل از وقت ختم ہو چکا ہے، جس کے باعث مریضوں کو ادویات کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ محکمہ صحت نے ادویات کی خریداری کے موجودہ نظام کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے تمام متعلقہ حکام سے فوری وضاحت طلب کر لی ہے اور واضح کیا ہے کہ تسلی بخش جواب نہ دینے کی صورت میں سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ماہرین صحت اور گورننس کے حلقوں کا کہنا ہے کہ ادویات کی خریداری میں اس نوعیت کی بے ضابطگیاں نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ مریضوں کی جانوں کو بھی خطرے میں ڈالتی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خریداری کے نظام میں شفافیت، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور آزاد آڈٹ کے مؤثر نظام کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے اسکینڈلز کی روک تھام کی جا سکے۔

دوسری جانب ماہرینِ صحت اور گورننس کے ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کی طرز پر ادویات کی خریداری سے متعلق تحقیقات کا دائرہ دیگر صوبوں تک بھی وسیع کیا جائے تاکہ ممکنہ خوردبرد اور بے ضابطگیوں کو بے نقاب کیا جا سکے۔ ماہرین نے بالخصوص سندھ کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں کئی بڑے سرکاری اسپتالوں کا ادویات کا سالانہ بجٹ اربوں روپے تک پہنچتا ہے، اس لیے شفافیت اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے جامع آڈٹ اور غیر جانبدار تحقیقات ناگزیر ہیں۔